سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 382
صلى الله سيرة النبي علي 367 جلد 7 رسول کریم ع کا عشق الہی حضرت مصلح موعود اپنے خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1951 ء میں نبی کریم کے عشق الہی کا ذکر درج ذیل الفاظ میں کرتے ہیں :۔ صلى الله عليسة جذبات صحیحہ ایک مفید تغیر کی ہمیشہ خواہش رکھتے ہیں اور یہ بات انسانی فطرت میں پائی جاتی ہے ۔ چنانچہ اسی فطرت کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسم بدلتے ہیں اور نئے نئے پھل پیدا ہوتے ہیں اور انسان بھی کبھی اپنے لباس میں تغیر کرتا ہے اور کبھی مکان میں اور کبھی نئے نئے کھانے تیار کرتا ہے کیونکہ نئی چیز سے فطرت تسکین پاتی اور ایک لطیف حظ محسوس کرتی ہے۔ تم تو شاید اسے بچوں والی بات کہو گے لیکن عاشق ہر بات کو اپنے عشق کے نقطۂ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے جب بادل آتا بوندیں برسنے لگتیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر صحن میں نکلتے اور اپنی زبان پر بارش کا قطرہ لیتے اور فرماتے یہ میرے رب کی تازہ نعمت کا مزہ ہے 1۔ تمہارے لئے تین دن برابر بارش برستی رہے تب بھی تمہارے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے ایک تازہ قطرہ کو بھی دیکھتے تو اُسے اپنی زبان پر لیتے گویا قطرہ کیا آیا خدا تعالیٰ کی طرف سے پانی کا ایک ٹھنڈا اور شیریں گلاس آگیا۔ یہ ہے سچا عشق اور اسی کی ہر مومن سے امید کی جاتی ہے۔ وہ شخص عاشق ہی کس طرح کہلا سکتا ہے جس میں یہ سے جذبہ نہ ہو کہ میرا خدا میرے لئے نئی نئی قدرتیں ظاہر کرے ۔“ (الفضل 21 مارچ 1962ء) 66 1: ابوداؤد كتاب الادب باب فى المطر صفحہ 717 حدیث نمبر 5100 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الأولى ( مفهوما )