سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 379

سيرة النبي علي صلى الله 364 جلد 7 مخالف یہ کہیں گے کہ دیکھا ! ہم نہیں کہتے تھے یہ لوگ مسلمانوں کے دشمن ہیں انہیں اسلامی ممالک کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن میں ان کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرتا۔ میں جانتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس عظمت اور شان کے مقابلہ میں اس ادنی ترین مقصد پر آکر ٹھہر جانا قطعی طور پر اپنی نابینائی کا اظہار کرنا ہے ۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ایران کے تیل کے چشموں کے آزاد ہونے سے قائم ہوتی ہے، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت مصر سے انگریزی فوجوں کے نکل جانے سے قائم ہوتی ہے تو پھر جب انگریزوں نے ایک ایک ملک سے مسلمانوں کو کان پکڑ کر نکال دیا تھا تو تمہیں چاہئے تھا کہ عیسیٰ کی عظمت ظاہر ہوگئی بلکہ عیسائیت کی موجودہ طاقت کو مدن قت کو مد نظر رکھتے تمہیں اب بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ عیسائیت اسلام پر بازی لے گئی لیکن ہر باشعور انسان جو حقیقت کو جانتا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ ملکوں کی آزادی بالکل اور چیز ہے اور کہنا چا ہوئے مذہب کا غلبہ ایک دوسری چیز ہے ۔ مط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں آکر یہ اصول پیش فرمایا کہ تمہارا یہ صلح نظر نہایت ادنی ہے تمہیں اپنے افکار کو بلند کرنا چاہئے۔ تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہارا کیا منصب ہے اور کون سا کام جو خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد کیا ہے۔ بے شک سیاست کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کی اصلاح ضروری ہے۔ بے شک دولت کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو ترقی کی ضرورت ہے۔ بے شک تمدن کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض یہ بھی تھی کہ اسلام کو روحانی طور پر دنیا میں غالب کیا جائے ۔ اب اس کی تشریح کرو تو اس عظیم الشان مقصد کے یہ معنے بن جاتے ہیں کہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے دلائل اتنی طاقت پکڑ جائیں کہ مسلمانوں کے ساتھ باتیں کرتے وہ ۔ میں جو وقت وہ کنی کترانے لگیں ۔ آج یورپ میں جو بھی لڑ پچر شائع ہوتا ہے اس میں یہ لکھا