سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 378
صلى الله سيرة النبي علي 363 جلد 7 رسول کریم ﷺ کی بعثت کی غرض صلى الله حضرت مصلح موعود نے خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1951ء میں نبی اکرم علی بعثت کی غرض پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی :۔ وو عروسة کی جو شخص بھی اس مسئلہ پر اس رنگ میں غور کرے گا اور عقل سے کام لے گا وہ بعثت محمدیہ کی یہ غرض قرار دے گا کہ سیاسی لحاظ سے ایران آزاد ہو جائے ، مصر آزاد ہو جائے، شام اور فلسطین آزاد ہو جائیں، لبنان آزاد ہو جائے، سوڈان آزاد ہو جائے ، پاکستان مضبوط ہو جائے اپنی انتہائی پست خیالی تصور کرے گا وہ شرمائے گا کہ میں یہ کیا کہہ رہا ہوں اور کون سا مقصد ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف منسوب کر رہا ہوں ۔ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ یہ چھوٹے چھوٹے علاقے آزاد ہو جائیں؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ مسلمان دنیا میں ایک چونی کی حیثیت حاصل کر لیں میں تو سمجھتا ہوں اگر میرے واہمہ اور خیال میں بھی ایسا نظریہ آئے تو میرا ہارٹ فیل ہو جائے کہ میں کتنا پست نظر یہ اُس عظیم الشان اور مقدس انسان کی بعثت کے متعلق رکھ رہا ہوں جسے خدا نے اولین و آخرین کا سردار بنایا۔ میں تو سمجھوں گا میرے جیسا جھوٹا انسان دنیا میں اور کوئی نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان رسول کی طرف اتنا چھوٹا ، اتنا معمولی اور اتنا ادنی درجہ کا خیال منسوب کر رہا ہو کہ اتنا بڑا رسول اس لئے آیا تھا کہ ایران کے تیل کے چشمے آزاد ہو جائیں ، اس لئے آیا تھا کہ مصر آزاد ہو جائے ، اس لئے آیا تھا کہ فلسطین اور شام اور لبنان کے جھگڑے دور ہو جائیں ۔ میں جانتا ہوں کہ