سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 377
سيرة النبي علي صلى الله 362 جلد 7 مراد ہے حالانکہ ہماری مراد یہاں جسمانی اولاد نہیں بلکہ روحانی اولاد تھی ۔ ہمارا منشا یہ تھا کہ آج دشمن اپنی اکثریت کے گھمنڈ میں اکڑ رہا ہے لیکن ایک دن آنے والا ہے جبکہ وہ بے اولاد ہو جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولا دوالے ہو جائیں گے یعنی ان دشمنوں کی اولادیں اپنے ماں باپ کو چھوڑ چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل ہوتی چلی جائیں گی اور اس طرح دشمن گھٹتے جائیں گے اور آپ بڑھتے جائیں گے۔ یہ مفہوم تھا جو سورۃ کوثر کی آیت کا تھا ۔ اب یہ سیدھی بات ہے کہ جس کی جماعت دنیا میں قائم ہو جائے گی ، جو ساری دنیا پر غالب آجائے گا ، جس کے دشمن مٹ جائیں گے، جو اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا وہ یقیناً رسول اللہ ہو گا ۔ یہ نہیں کہ کسی کا بیٹا نہ ہو اور اُس کے متعلق کہا جائے کہ وہ رسول اللہ بن گیا۔ آگے فرماتا ہے وَخَاتَمَ النَّبِيِّن خالی یہی نہیں کہ یہ اللہ کا رسول ہے بلکہ رسولوں کی مہر ہے۔ تم اس کو جھوٹا سمجھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی کی تھی کہ میرا دشمن ابتر رہے گا وہ غلط نکلی ۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ وہ پیشگوئی پوری ہوگی اور اس کی اولا د دنیا میں ہمیشہ کے لئے قائم رکھی جائے گی۔ یعنی اس کا فیضان کبھی ختم نہ ہوگا اور قیامت تک اسی کی برکت سے اور اسی اور اسی کی غلامی میں وہ لوگ کھڑے ہوں گے جو اس کے لائے ہوئے دین کی دنیا میں اشاعت کریں گے ( الفضل 21 مارچ 1962 ء ) اور اس کے نام کو کونہ کونہ میں پھیلائیں گے۔“ 1: الكوثر : 2 تا 4 2، 3: الاحزاب : 11