سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 376

صلى الله سيرة النبي علي 361 جلد 7 رسول کریم ﷺ کا مقام خاتم النبین صلى الله حضرت مصلح موعود نے 27 دسمبر 1951ء والے خطاب میں رسول کریم ﷺ کے مقام خاتم النبین کو بایں الفاظ بیان فرمایا :۔ وو پچھلے نبی بھی آپ کی تصدیق کے ساتھ ہی نبی ثابت ہوتے ہیں اور آئندہ بھی آپ کے فیضان سے ہی اللہ تعالیٰ کے قرب کے مدارج حاصل ہوا کریں گے ۔ اسی مقام کی وضاحت ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں کی گئی تھی کہ إِنَّا أَعْطَيْنُكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ - إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ 1 اے محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تیرا دشمن لا ولد رہے گا اور تیرے بیٹے ہوں گے۔ یہ دعوی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اور بتایا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے اولاد نہیں رہیں گے بلکہ ان کا دشمن بے اولا د ر ہے گا ۔ اب جب خدا نے یہ کہا کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ 2 تو دشمن کو اعتراض کا موقع مل سکتا تھا کہ دیکھا کہتے تھے کہ میری اولاد ہو گی اور دشمن کی نہیں ہو گی مگر اب آپ ہی مان لیا کہ میں بے اولاد ہوں گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ 3 کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو اس سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ تم نے جو اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابر کے معنے سمجھے تھے تھے وہ غلط تھے۔ باوجود اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد نہیں ہوگی ۔ پھر بھی سورۃ کوثر میں جو بتایا گیا تھا کہ اس کے دشمن ابتر رہیں گے وہ بالکل درست ہے ۔ کس طرح ؟ اُنہوں نے یہ سمجھا تھا کہ اس جگہ جسمانی اولاد