سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 380

سيرة النبي علي صلى الله 365 جلد 7 ہوتا ہے کہ اسلام میں فلاں نقص ہے اور اسلام میں فلاں خرابی ہے لیکن کل اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہو کہ یورپ کے رہنے والے اپنی کتابوں میں یہ لکھیں کہ اسلام میں فلاں اپنی میں یہ بات بہت اعلیٰ ہے مگر عیسائیت بھی اس سے بالکل خالی نہیں ۔ مسیح کی فلاں بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی دنیا کے سامنے یہی بات پیش کی تھی ۔ آج کا یورپ زدہ مسلمان یورپ کی ڈیما کریسی کو دیکھ کر کہتا ہے کہ قرآن سے بھی کچھ کچھ ایسے ہی اصول ثابت ہوتے ہیں اور یہ خوبی ہمارے اندر بھی پائی جاتی ہے۔ یہ اپالوجی (Apology) ہے جو آج کا مسلمان پیش کر رہا ہے اور یہ اسلام کے لئے فخر کا دن نہیں ۔ اسلام کے لئے فخر کا دن وہ ہوگا جب یورپ اور امریکہ میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اسلامی پردہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں اس کی کچھ کچھ انجیل سے بھی تائید ہوتی ہے اور ہمارے مسیح نے بھی جو فلاں بات کہی ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس قسم کا پردہ ہونا چاہئے ۔ اسلام کے لئے فخر کا دن وہ ہوگا جب یورپ اور امریکہ کا عیسائی اپنی تقریروں میں یہ کہے گا کہ کثرت ازدواج کا مسئلہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں بے شک یہ بڑا اچھا مسئلہ ہے اور عیسائیوں نے کسی زمانہ میں اس کے مخالف بھی کہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پوری طرح غور نہیں کیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ عیسائیت کے وہ بزرگ جو پہلی صدی میں گزرے ہیں انہوں نے بھی دو دو تین تین شادیاں کی ہیں پس کثرت ازدواج کی خوبی صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ عیسائیت میں بھی پائی جاتی ہے۔ جس دن یورپ اور امریکہ کے گرجوں میں کھڑے ہو کر ایک پادری اپنے مذہب کی اس رنگ میں خوبیاں بیان کرے گا وہ دن ہوگا جب ہم کہیں گے کہ آج اسلام دنیا پر غالب آگیا ۔ اب ہمیں اپالوجی (Apology) کی ضرورت نہیں ۔ اب دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خوبیاں ان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں ۔ یہ ہو گا اسلام کا غلبہ اور یہ ہو گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا دن ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا وہ دن ہوگا جب دو ارب چالیس کروڑ کی دنیا