سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 374
صلى الله سيرة النبي علي 359 جلد 7 رسول کریم ﷺ کی صداقت کی علامات حضرت مصلح موعود نے 27 دسمبر 1951 ء کو جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو جو تبلیغی خط لکھے تو ایک خط ہر قل کے نام بھی تھا۔ جب اس کے پاس خط پہنچا تو اس نے کہا کہ عرب کا کوئی آدمی لاؤ جس سے میں پوچھوں کہ حقیقت کیا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ابوسفیان جو اُس وقت مکہ کے سردار تھے اور اسی طرح مکہ کے چند اور آدمی تجارت کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے ، سپاہی اُنہیں پکڑ کر لے آئے ۔ اُس نے ابوسفیان کے پیچھے اس کے ساتھیوں کو کھڑا کر دیا اور کہا کہ میں اس سے چند سوال کروں گا اگر یہ سچ بولے تو چپ رہنا اور اگر کسی بات میں اس نے جھوٹ بولا تو تم پکڑ لینا چنانچہ ابوسفیان کھڑے ہو گئے ۔ بعد میں جب وہ اسلام لائے تو اُنہوں نے بتایا کہ کئی جگہ میرا دل چاہتا تھا کہ میں جھوٹ بولوں لیکن پھر میں رک جاتا تھا اس خیال سے کہ میرے ساتھی ہی مجھے جھٹلا دیں گے۔ اُس نے جو سوال کئے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ يَرْتَدُّ اَحَدٌ مِنْهُمْ سُخْطَةً لدینہ کہ کیا کوئی اس کے دین سے اس طرح بھی مرتد ہوتا ہے کہ خود اس کے دین سے اُس کو نفرت ہو؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُسے نفرت ہو جائے ، صحابیوں سے نفرت رت ہو جائے ۔ روپیہ پر جھگڑا ہو جائے ، زمین پر جھگڑا ہو جائے اور وہ مرتد ہو جائے ا تو یہ اور بات ہے ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جو عقیدہ یہ شخص پیش کرتا ہے مثلاً کہتا ہے خدا ایک ہے تو کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو مرتد ہونے کے بعد یہ کہنا شروع کر دے کہ مجھ