سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 373

سيرة النبي علي صلى الله 358 جلد 7 رسول کریم علی کا عورتوں کو مالی قربانی کی تحریک کرنا دو حضرت مصلح موعود نے 14 دسمبر 1951 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جب خاص قربانی کی ضرورت ہوا کرتی تھی تو آپ عورتوں سے ہی اپیل کیا کرتے تھے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ عورت جذباتی ہوتی ہے۔ جب قربانی قربانی کرنے پر پر آجائے تو وہ وہ غیرمعمولی غیر معمولی طور پر پر قربانی کر کر جاتی جاتی ہے۔ ہے۔ ایک دفعہ دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ ضرورت پیش آئی تو آپ نے عید کی نماز کے بعد عورتوں میں تحریک کی اور انہوں نے اپنے زیور اتار کر چندہ میں دینے شروع کر دیئے۔ یوں تو عورت کو سب سے زیادہ زیور ہی پسند ہوتے ہیں کیونکہ وہی اس کی جائیداد ہوتے ہیں لیکن جب اسے جوش آجائے تو پھر وہ اسی زیور کو جو اُسے محبوب ہوتا ہے اتار کر پھینک دیتی ہے۔ عورتوں نے اسی طرح کیا اور زیورا تا را تار کر دینے شروع کر دیئے مگر چونکہ اکثر غریب عورتیں تھیں اس لئے ان کے پاس کم قیمت زیور تھے۔ کسی نے چھلہ دے دیا، کسی نے مر کی دے دی اور کسی نے اسی قسم کی کوئی اور چیز دے دی۔ ایک صحابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیور اکٹھا کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ جھولی پھیلائے ادھر اُدھر پھر رہے تھے اور عورتیں گھونگٹ نکالے بیٹھی تھیں۔ اتنے میں ایک امیر گھرانے کی لڑکی نے سونے کا کڑا اپنے ہاتھ سے اتارا اور اُس کی جھولی میں ڈال دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ اُس نے بڑی بھاری رقم خدا تعالیٰ کی راہ میں دی ہے تو آپ نے فرمایا تیرا دوسرا ہاتھ بھی درخواست کرتا ہے کہ تو اسے دوزخ سے بچا۔ اس پر اُس نے الفضل 20 دسمبر 1951ء) اپنا دوسرا کڑا بھی اتار کر دے دیا ۔