سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 368

سيرة النبي علي صلى الله 353 جلد 7 کہ شاید شام سے آنے والے تجارتی قافلہ کے ساتھ مقابلہ ہو جائے اس لئے کچھ لوگ تو آپ کے ساتھ چل پڑے لیکن باقی لوگ مدینہ میں ہی رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شام سے آنے والے قافلہ کے ساتھ لڑائی ہوئی ہے اور اس کے لئے تھوڑے سے آدمیوں کی ہی ضرورت ہو گی لیکن جنگ مکہ سے ابو جہل کی قیادت میں آنے والے لشکر سے ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی ۔ کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عرب کے با اثر اور رعب رکھنے والے لوگ اور پھر ایک تجربہ کار لشکر مسلمانوں سے شکست کھا اور جائے گا لیکن لڑائی ہوئی اور اس میں بڑے بڑے دشمن مارے گئے ۔ دشمن شکست کھا کر واپس لوٹا اور مسلمان مال غنیمت لے کر مدینہ واپس آئے ۔ جو لوگ اس جنگ میں شریک ہوئے تھے اُن کے اندر بڑائی کا احساس پایا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے انہیں ثواب کا موقع دیا۔ وہ جہاں بیٹھتے تھے کہتے تھے ہم نے یوں کیا ہم نے ڈوں کیا ۔ کوئی کہتا تھا میں نے عتبہ پر یوں حملہ کیا تھا اور کوئی کہتا تھا میں نے شیبہ پر یوں ہلہ بولا تھا۔ دوسرے مسلمان کہتے تھے تمہیں بیشک ثواب کا موقع ملا ہے لیکن افسوس کہ ہمیں پہلے پتا کہتے تھے کا ملا ہے کہ تھے نہ تھا ور نہ ہم بھی اس موقع پر پیچھے نہ رہتے ۔ جب مدینہ میں اس قسم کی باتیں ہوتیں تو اُس وقت ایک انصاری جوش سے کھڑے ہو جاتے اور کہتے بس بس تم نے کیا کیا ؟ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم دکھائیں گے کہ کس طرح ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں جان کی قربانی پیش کرتے ہیں 4۔ یہ ایک کھیل سا بن گیا تھا کہ جوں ہی کوئی بدری صحابی فخر کرتے تو وہ کہہ دیتے بس بس تم نے کیا کیا ہے ہمیں موقع ملا تو تمہیں قربانی کر کے دکھائیں گے۔ جب احد کی جنگ ہوئی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو یہ صحابی پیچھے آ گئے ۔ انہوں نے کھایا کچھ نہیں تھا۔ غریب آدمی تھے دس بارہ کھجوریں پاس تھیں وہ ٹہلتے جاتے تھے کہ اتنے میں وہ واقعہ پیش آ گیا کہ جس نے فاتح لشکر کو شکست خوردہ بنا دیا۔ اُحد کے پہاڑ کے ایک درہ میں جو صحابی بٹھائے گئے تھے اور جنہیں حکم تھا کہ خواہ کچھ ہو وہ وہاں سے نہ ہٹیں انہوں -