سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 369

سيرة النبي علي صلى الله 354 جلد 7 نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف وہ جگہ چھوڑ دی ۔ وہ یہ سمجھ کر کہ کفار کو شکست ہو گئی ہے ہم یہیں بیٹھے رہے ہیں اور جہاد میں حصہ نہیں لیا درہ چھوڑ کر نیچے آ گئے ۔ جب کفار کا لشکر بھاگا جا رہا تھا تو خالد بن ولید جو اُس وقت ابھی کافر تھے اُن کی نظر اس درّہ پر پڑی اور انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے درّہ خالی ہے ۔ چنانچہ انہوں نے عمرو بن العاص کو ساتھ ملایا اور کہا یہ موقع ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ چنانچہ انہوں نے اس درہ میں سے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جو مالِ غنیمت اکٹھا کر رہے تھے یکدم انہوں نے دیکھا کہ اُن کے درمیان دشمن کی فوج آگئی ہے۔ مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور دشمن تین ہزار کی تعداد میں تھا۔ پھر مسلمان بکھرے ہوئے تھے اور وہ اکٹھے اور تازہ دم ہو کر آئے تھے۔ اس لئے یکدم حملہ کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ تیرہ آدمی رہ گئے اور پھر وہ بھی زخمی ہوئے اور گرنے شروع ہوئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس جنگ میں شدید زخم آئے اور آپ بیہوش ہو کر گر گئے اور جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے اُن کے جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گر گئے اور آپ نیچے دب گئے 5 ۔ جب آپ پر دوسرے لوگوں کے جسم گرے اور آپ نے کوئی حرکت نہ کی تو مسلمانوں نے سمجھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں ۔ آپ کے گرد جو لوگ تھے اُن میں جو بچے ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔ انہیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ وہ میدان سے پیچھے ہٹے اور ایک پتھر پر بیٹھ کر رونے لگے ۔ پاس ہی مذکورہ بالا انصاری صحابی ٹہل رہے تھے۔ انہوں نے حضرت عمر کو روتے دیکھا تو آپ کے پاس آئے اور کہا عمر ! خدا تعالیٰ نے اسلام کو فتح عطا کی ہے اور تم رو رہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا تم شاید فتح کے وقت پیچھے آ گئے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں! حضرت عمرؓ نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ دشمن سے جو