سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 367

ة سيرة النبي علي صلى الله 352 جلد 7 اس آیت میں مومن کے ایمان کا معراج بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومنوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ ۔ خدا تعالیٰ سے جو وعدہ انہوں نے کیا تھا اُسے انہوں نے پورا کر دیا ہے ۔ خدا تعالیٰ اگر اپنا وعدہ پورا کرتا ہے تو یہ اُس کے لئے آسان امر ہوتا ہے۔ وہ آتا ہے، مالک ہے۔ لیکن بندہ تو کمزور اور ضعیف ہے وہ اگر خدا تعالیٰ سے وعدہ کرے اور پھر اُسے پورا کرے تو یہ بڑی شان کی بات ہے۔ فرمایا بعض لوگ تو ایسے ہیں فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ کہ جو وعدہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے کیا تھا وہ انہوں نے لفظاً لفظاً پورا کر دیا یعنی کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان کی بھینٹ چڑھا کر اپنے وعدہ کو پورا کر دیا۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ اور کچھ ایسے ہیں کہ وہ اس لئے کہ انہیں قربانی کا موقع نہیں ملا اس انتظار میں ہیں کہ کوئی موقع آئے تو وہ قربانی کریں وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا - وقت آنے سے پہلے کسی کا یہ کہنا کہ اگر وقت آیا تو میں یہ کروں گا وہ کروں گا کہنے والے کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے اسے فخر و تعلی کہتے ہیں ۔ یعنی پہلے تو یہ کہنا کہ وقت آئے گا تو میں یہ کروں گا لیکن وقت آنے پر بھاگ جانا۔ پس گو بظاہر یہ کمزوری ہوتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہمیں بھی موقع ملے تو تمہیں قربانی کر کے دکھا ئیں ۔ یہ الفاظ بالعموم وہی کہتا ہے جو کمزور ہوتا ہے اور وقت آنے پر اپنے عہد کو نبھا نہیں سکتا لیکن وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا یہ لوگ تھے جنہوں نے فخر کیا اور پھر اسے پورا کر دیا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔ یہی وہ آیت ہے جو جنگ بدر اور جنگ احد کو ملاتی ہے ۔ جس طرح دو گاڑیوں کے درمیان ایک زنجیر ہوتی ہے جو انہیں آپس میں ملاتی ہے اسی طرح یہ آیت ایک زنجیر ہے جو جنگ احد اور جنگ بدر کو آپس میں ملا دیتی ہے۔ جنگ بدر کے لئے جب آپ نکلے تو چونکہ اللہ تعالیٰ کے منشا کے ماتحت آپ نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ کفار مکہ کے ساتھ ضرور لڑائی ہونے والی ہے بلکہ صرف اتنا کہا