سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 366
لله صلى الله سيرة ابي عليه 351 جلد 7 ہے، لوگ اُسے حقیر سمجھتے ہیں، مارتے ہیں، پیٹتے ہیں، نماز پڑھتے ہوئے اُس پر جانوروں کی اوجھڑیاں پھینک دیتے ہیں ۔ وہ کہتا ہے کہ ایک دن سب عرب قبائل مل کر مجھ پر حملہ کریں گے لیکن وہ شکست کھائیں گے ۔ اور پھر واقعہ میں سب قبائل مل کر اُس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اور جیسا کہ اُس نے پہلے بتایا ہوتا ہے انہیں اس کے مقابلہ میں شکست نصیب ہوتی ہے۔ گویا اس کی پیشگوئی کے دونوں حصے پورے ہوتے ہیں ۔ قبائل حملہ آور بھی ہوتے ہیں اور پھر انہیں شکست بھی ہوتی ہے۔ مومن کہتا ہے کہ یہ عذاب کی بات نہیں بلکہ دشمن کا ایک ایک آدمی جو اس جنگ میں شریک ہوا ہے وہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان نه الشان نشان ہے کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس طرح مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب کے قبائل اکٹھے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوں گے اور آپ کے خلاف یہود اور مشرکین آپس میں معاہدہ کر لیں گے ۔ اسی لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مومنوں نے دیکھا کہ سب قبائل اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا هُذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا ۔ اللہ اللہ ! یہ کتنا بڑا معجزہ ہے ۔ دوسرے لوگ کہتے ہیں اتنا بڑا دشمن حملہ آور ہوا ہے پتا نہیں کیا ہو گا لیکن مومن کہتا ہے الله اَكْبَرُ ! یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ اسی کمزور انسان پر جسے ہم نے نبی مقرر فرمایا ہے ایک وقت میں عرب لوگ گھبرا کر اور سب اکٹھے ہو کر حملہ کریں گے اور عرب اس کے مقابلہ کے لئے اپنی ساری شوکت کو جمع کرنے پر مجبور ہوگا۔ اصل مضمون کے ساتھ تو ان آیات کا اتنا ہی تعلق تھا لیکن جب اگلی آیت سامنے آ جاتی ہے تو گد گدیاں سی ہونے لگتی ہیں اور اُسے بغیر کچھ بیان کئے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا - 3