سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 365

صلى الله سيرة النبي علي 350 جلد 7 کیسے ہوں گی اس حملہ اور تباہی نے اُن کے ایمانوں کو بڑھا دیا۔ پھر صرف اُن کا ایمان ہی نہیں بڑھا بلکہ اُن کے عمل میں بھی ترقی ہوئی۔ کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی ہے اس لئے اس کے نتیجہ میں جو ثواب ملے گا وہ بھی عظیم الشان ہوگا ۔ نادان سمجھتا ہے کہ ترقی کا نشان بڑا نشان ہوتا ہے لیکن مومن کہتا ہے کہ ترقی کا نشان ہی بڑا نشان نہیں بلکہ آفات کا نشان بھی بڑا نشان ہے۔ مثلاً اگر تم دیکھو کہ کسی غریب آدمی کی جیب سے ایک کروڑ روپیہ نکلا ہے تو تم حیران ہو گے لیکن ایک بچہ جو لکڑی کے سہارے سے چل رہا ہوتا ہے وہ اگر کہے کہ ایک دن روس اور امریکہ کی فوجیں اُس پر حملہ کریں گی تو کیا یہ کوئی کم نشان ہے؟ اس بچہ کے متعلق تو کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا کہ اس پر کوئی دس برس کا بچہ بھی حملہ کرے گا ۔ کسی کو یہ وہم می نہیں ہو سکتا کہ اُس پر ایک آدمی حملہ کر سکتا ہے ۔ کسی کو یہ خیال بھی نہیں آ سکتا کہ اُس پر دس آدمی یا ایک گاؤں کے آدمی حملہ آور ہو سکتے ہیں ۔ کجا یہ کہ وہ کہے کہ مجھ پر دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں حملہ کریں گی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کی مکہ میں یہ نیا کی حملہ گی۔ کریم صلی اللہ حالت تھی کہ آپ نماز پڑھتے تھے تو کفار اوجھڑی آپ کے سر پر رکھ دیتے تھے وہ آپ کو مارتے تھے، پیٹتے تھے، آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے اور آپ کے خلاف گند اچھالتے تھے ۔ آپ کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ ایک دن آپ کی شان اتنی بڑھ جائے گی کہ سارا عرب مل کر آپ پر حملہ آور ہو جائے گا اور آپ کے خلاف یہودی اور مشرکین متحد ہو جائیں گے یہ کسی کے بس کی بات نہیں تھی ۔ سارے عرب قبائل کا ا کا اکٹھا ہو جانا اور یہود کا اُن کے ساتھ مل جانا اور آپ پر حملہ آور ہونا کوئی کم نشان نہیں ۔ بے شک - فتح مکہ ایک عظیم نشان تھا لیکن جنگِ احزاب بھی اس سے کوئی کم بڑا نشان نہیں ۔ قرآن کریم میں فتح مکہ کا اتنا زور دار ذکر نہیں آیا جتنا زور دار ذکر جنگ احزاب کا ہے اور یہ اتنا عظیم الشان نشان ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک بے کس و بے بس انسان جس کا ہمسایہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اُسے مار سکتا ہے وہ اُسے وطن سے باہر نکال سکتا