سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 364

سيرة النبي علي صلى الله 349 جلد 7 غزوات میں رسول کریم ﷺ اور صحابہ کے نمونے حضرت مصلح موعود نے 7 دسمبر 1951ء کو خطبہ جمعہ کے آغاز میں سورۃ الاحزاب کی آیات 22 تا 25 کی تلاوت کی اور فرمایا :۔ وو سورۃ احزاب کی آیات جو میں نے اب پڑھی ہیں ان میں مومنوں کا رنگ بتایا گیا ہے لیکن سورۃ بقرہ کی آیت كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمُ 1 میں منافقوں کا رنگ بتایا گیا تھا۔ مومنوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَمَّارَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هُذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّا إِيْمَانًا وَ تَسْلِيمًا 2 ۔ جب مومنوں نے دشمن کے لشکر دیکھے اور سارے عرب کی فوجوں کو دیکھا کہ وہ مدینہ کے ایک چھوٹے گاؤں پر اُمڈ آئی ہیں تو کہا لهذا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ۔ دوسرے لوگ تو دشمن کی فوجیں دیکھ کر گھبرائے کہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا ۔ مسلمان فوج گل بارہ سو تھی اور کفار کا لشکر پندرہ ہزار تھا بلکہ مدینہ میں بھی بغاوت ہو گئی تھی ۔ لوگ سمجھتے تھے اب مسلمان ختم ہو جائیں گے لیکن مومنوں نے جب احزاب کو دیکھا تو کہا اللهُ اَكْبَر ! اسلام کتنا سچا مذہب ہے۔ اس میں پہلے سے پیشگوئیاں موجود تھیں کہ لوگ مدینہ پر چڑھ آئیں گے اور مسلمانوں پر حملہ آور ہوں گے۔ بھلا کسی کو خیال بھی آ سکتا تھا کہ سارے عرب کے قبائل مدینہ پر حملہ آور ہوں گے۔ اس صورت میں یہ کتنی شاندار بات تھی کہ پہلے سے میں یہ سے بتا دیا گیا کہ سارا عرب مل کر مسلمانوں پر حملہ کرے گا وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا بجائے اس کے کہ مومن ڈرتے ، گھبراتے اور کہتے کہ اس قدر قربانیاں