سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 360

سيرة النبي علي صلى الله 345 جلد 7 اور تمہیں اس کی سزا دیں گے۔ ادھر اِکا دُکا مسلمانوں پر انہوں نے حملے شروع کر دیئے۔ ان کے قافلے جو شام میں تجارت کے لئے جاتے تھے انہوں نے اپنے اصل راستہ کو چھوڑ کر مدینہ کے اردگرد کے قبائل میں سے گزرنا شروع کیا اور اُن کو مدینہ والوں کے خلاف اکسانا شروع کر دیا۔ غرض ملک میں چاروں طرف ایک شورش بر پا ہو گئی ۔ اسی دوران میں بعض چھوٹی چھوٹی لڑائیاں بھی ہوئیں اور اس کے بعد بدر کی مشہور اور معرکۃ الآراء جنگ ہوئی ۔ اس جنگ کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ شام سے کفار کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں آ رہا تھا۔ مکہ کے لوگوں نے اس خیال سے کہ کہیں مسلمان اس قافلہ پر حملہ نہ کر دیں ایک بہت بڑا لشکر ابوجہل کی قیادت میں تیار کر کے بھجوا دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ دشمن آ رہا ہے قافلہ بھی آ رہا ہے اور فوج بھی آ رہی ہے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ یہ صورت حالات ہے ۔ اگر اس وقت ہم باہر نہ نکلے تو کفار تمام عرب میں شور مچائیں گے اور ارد گرد کے قبائل مسلمانوں کے خلاف بھڑک اٹھیں گے ۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریباً تین سو صحا بہ لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے مگر اُس وقت تک صحابہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہو گا یا اصل لشکر سے ہوگا۔ مگر اللہ تعالیٰ یہی چاہتا تھا کہ قافلہ سے نہیں بلکہ اصل لشکر سے مقابلہ ہو ۔ جب بدر کے قریب پہنچے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحار صحابہؓ کو بتایا کہ الہی منشا یہی ہے کہ مکہ کے اصل لشکر سے جو ابوجہل کی قیادت میں آ رہا ہے ہمارا مقابلہ ہو ۔ جہاں تک میرا مطالعہ ہے مجھے قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو مدینہ میں ہی یہ علم دے دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کا کفار کے اصل لشکر سے مقابلہ ہو گا مگر ساتھ ہی آپ کو منع کر دیا گیا تھا کہ ابھی یہ بات صحابہ کو بتائی نہ جائے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب آپ باہر نکل آئے تب