سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 359
سيرة ة النبي علي صلى الله 344 جلد 7 کو نبھانا مشکل ہوتا ہے ۔ اگر تم لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے الو اپنے ساتھ ۔ گئے تو تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ مکہ والوں نے اپنی مخالفت سے باز نہیں آنا اور پھر وہاں بھی مخالفت کا ہونا ایک لازمی امر ہے۔ مکہ میں تو ان کے رشتہ دار موجود ہیں اور اس وجہ سے لوگ ان پر حملہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں لیکن مدینہ میں رشتہ دار نہیں ہوں گے اس لئے تم خوب سوچ سمجھ کر بات کرو۔ اگر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو تمہیں آپ کی حفاظت کے لئے مرنا بھی پڑے گا۔ انہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم نے تمام باتوں کو سوچ سمجھ کر ہی یہ درخواست کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے چلیں ۔ حضرت عباس نے کہا تو پھر آؤ اور معاہدہ کرو۔ چنانچہ ایک معاہدہ کیا گیا جس میں یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر مدینہ پر کفار حملہ کریں تو چونکہ آپ مدینہ ہماری درخواست پر تشریف لے جا رہے ہیں اس لئے مدینہ کے مسلمان اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار رہیں گے اور سارے کے سارے مرجائیں گے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دیں گے۔ لیکن اگر مدینہ سے باہر نکل کر کسی اور مقام پر لڑائی ہوئی تو چونکہ مدینہ ایک گاؤں ہے اور گاؤں کے رہنے والے سارے ملک کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے ہم مدینہ سے باہر لڑائی کرنے کے پابند نہیں ہوں گے 1۔ غرض معاہدہ ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے ۔ جب آپ مدینہ چلے گئے تو وہی ہوا جس کا حضرت عباس کو خطرہ تھا۔ ادھر آپ مدینہ پہنچے اور اُدھر مکہ والوں نے انہیں کہنا شروع کر دیا کہ کمبختو! تم بڑے بے ایمان ہو گئے ہو یہ شخص تمہارے بتوں کی ہتک کرتا ہے، تمہارے باپ دادا کو جھوٹا کہتا ہے اور پھر تمہارے شہر میں بیٹھ کر اپنے عقائد کو پھیلا رہا ہے ۔ یا تو تم خود اس کے ساتھ لڑائی کرویا اسے ا کرویا اسے اپنے شہر سے نکال دو ورنہ ہم سب مل کر مدینہ پر حملہ کر دیں گے