سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 358

سيرة النبي علي صلى الله 343 جلد 7 صلى الله رسول کریم ﷺ کا اہل مدینہ سے معاہدہ حضرت مصلح موعود نے 30 نومبر 1951ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔ و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کو جب مکہ والے متواتر دکھ دیتے چلے گئے اور انہوں نے اسلام کے مٹانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے چند لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نصیحت فرمائی کہ مدینہ میں تبلیغ کے ذریعہ اپنی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرو ۔ چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر وہ بہت بڑی تعداد میں مکہ پہنچے اور وہ آپس میں یہ مشورہ کر کے آئے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کریں گے کہ اب مکہ کو چھوڑیے اور ہمارے شہر میں تشریف لے آئیے ۔ چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، انہوں نے آپ سے باتیں کیں ، آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ ساتھ چلیں اور اب مکہ کو چھوڑ دیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس اس ملاقات ہمارے ساتھ : سے کے وقت حضرت عباس کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے جو اگرچہ عمر میں آپ صرف دوسال بڑے تھے لیکن بڑے زیرک اور ہوشیار تھے، مکہ کے بیچ تھے اور اس وجہ سے سیاسیات کو خوب سمجھتے تھے۔ اور گو وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھے تعلقات رکھتے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ۔ جب مدینہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو حضرت عباس نے کہا باتیں کر لینی آسان ہوتی ہیں لیکن ان