سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 361
سيرة النبي علي صلى الله 346 جلد 7 اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر اصل حقیقت کو ظاہر کیا گیا۔ بہر حال جب کئی منزل طے کرنے کے بعد آپ بدر کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سے آپ کو حکم ہوا کہ اب یہ بات صحابہ کو صحابہؓ کو بتا دی جائے یا اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ امر ظاہر کیا گیا کہ قافلہ تو نکل گیا ہے اب صرف لشکر کے ساتھ مقابلہ ہو گا۔ آپ کے باہر نکلنے کی غرض یہی تھی کہ ان لوگوں کا دفاع کیا جائے کیونکہ یہ لوگ مدینہ کے پاس پہنچ کر شور مچائیں گے کہ ہم مکہ سے چل کر آ گئے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مدینہ میں ہی بیٹھے ہیں ۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق تحقیر اور تذلیل کے خیالات پیدا ہوں گے اور ہمارا ان لوگوں میں رہنا مشکل ہو جائے گا ۔ بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ شام سے جو تجارتی قافلہ آ رہا تھا وہ تو نکل گیا ہے۔ اب دشمن کا لشکر اس طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ بتاؤ! اب تمہاری کیا تجویز ہے؟ کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں یا ان لوگوں کا مقابلہ کریں؟ اس پر ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوتا اور کہتا يَا رَسُولَ اللهِ! پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمن سے لڑیں ورنہ وہ دلیر ہو جائے گا اور لوگوں میں فخر کرے گا کہ وہ باہر بھی آیا مگر مسلمان اُس کے مقابلہ کے لئے نہ نکل سکے ۔ مگر تقریر کرنے کے بعد جب بھی کوئی مہاجر بیٹھتا آپ فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ اس پر پھر کوئی مہاجر صحابی کھڑا ہوتا اور کہتا يَا رَسُولَ اللَّهِ! مقابلہ کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ مگر جب وہ بیٹھ جاتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ جب یکے بعد دیگرے کئی مہاجر اپنا مشورہ دے چکے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہاجر کی تقریر کے بعد یہی فرماتے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ تو ایک انصاری کھڑے ہوئے۔ اس وقت تک انصار کا گروہ خاموش بیٹھا ہوا تھا مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو انصار نے سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہم سے ہے ورنہ مہاجرین تو مشورہ دے ہی رہے