سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 353
صلى الله سيرة النبي علي صلى الله عل وسام 338 جلد 7 ہے ۔ پس الَّذِي خَلَقَ کے الفاظ زائد کر کے بتا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا محمد رسول اللہ پر اگر خالق و رب ہونے کا حق ہے تو دوسرے لوگوں پر خالق ہونے کا حق تو واضح ہے ۔ گو رب ہونے کا حق ابھی مخفی ہے ۔ جب تم خدا کے پیغامبر ہو کر ان تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دو گے تو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کامل طور پر ان کی طرف بھی منتقل ہو جائے گی ۔ گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کا ان الفاظ میں نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ آپ بلا دلیل بات کو سننے کے لئے کسی حالت میں تیار نہ تھے ۔ اس مرحلہ کے بعد اب ایک اور مرحلہ پیش آتا ہے۔ بے دلیل بات نہ کرنے کے علاوہ فطرت صحیحہ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ کوئی بے نتیجہ کام اُس سے نہ کروایا جائے ۔ مانا کہ خدا تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ انسان کو حکم دے مگر کیا اس کے حکم کو ماننے کا کوئی امکان ہے؟ اگر اس کے ماننے کا کوئی امکان ہی نہیں تو یہ بے نتیجہ کام کیوں کیا جائے ۔ اگلی آیت اس شبہ کا ازالہ کرتی ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ انسان کے اندر تعلق باللہ کا مادہ رکھا گیا ہے اس لئے خواہ تیرے مخاطب کتنے ہی تقویٰ اور خوفِ خدا سے دور پڑے ہوئے ہوں فطرتاً ان کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف لوٹیں اور اُس سے محبت کریں ۔ پس ظاہری حالات کے لحاظ سے یہ پیغام کتنا ہی کامیابی سے دور نظر آتا ہے حقیقتا نممکن نہیں بلکہ اس کے کامیاب ہونے کے مخفی اور فطری سامان موجود ہیں ۔ بظاہر تو اس دلیل میں انسانی فطرت کی پاکیزگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر باطناً اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فطرت کے اس پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ کوئی فضول اور بے نتیجہ کام کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ آپ وہی کام کرتے تھے جس کا کوئی فائدہ ہو۔ خواہ مادی خواہ قانونی یا اخلاقی ۔ اور یہ ایک بہت ز بر دست پاکیزہ فطرت پر دلالت کرنے والی بات ہے۔ قرآن کریم ایک دوسری جگہ فرماتا ہے ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے،