سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 352
سيرة النبي علي صلى الله 337 جلد 7 جن حالات میں وہ فرشتہ آتا ہے وہ کوئی کم ہیبت ناک نہیں ۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسا وجود ہے کہ جس طرح چاہتا ہے آتا ہے ۔ جنگل اور پہاڑیاں بھی اسے روک نہیں سکتیں ۔ اس رعب کی موجودگی میں اور اس ہیبت ناک نظارہ کی موجودگی میں بھی خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اگر کوئی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی جائے گی تو آپ کہیں گے میں یہ کام کیوں کروں پہلے میری تسلی کرو۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تو اپنے اس رب کے نام سے پڑھ جس نے تجھے پیدا کیا ہے یعنی ساتھ ہی اس کی دلیل بھی دے دی ۔ رَبِّكَ کہہ کر بتایا کہ تیرے پیدا کرنے والے کا تجھ پر حق ہے تو اس حق کو پورا کرنے کے لئے یہ کام کر ۔ مگر ابھی یہ سوال رہ جاتا تھا کہ کیا جن کی طرف پیغام بھیجا جا رہا ہے اُن پر بھی پیغام بھجوانے والے کا کوئی حق ہے؟ سو الَّذِی خَلَقَ کہہ کر بتایا کہ وہ تیرا رب ہی نہیں سب مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے ۔ پس اس کا حق ہے کہ ان سے بھی اپنی فرمانبرداری کا مطالبہ کرے۔ پس تجھے کسی ایسے کام کے لئے نہیں بھجوایا جاتا جس کا تجھے حق نہیں بلکہ تجھے بھجوانے والے کا اُن پر بھی حق ہے۔ اس آیت میں خَلَقَ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے خَلَقَ کی حد بندی نہیں کی گئی اس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت خَلَقَ وسیع ہے اور اس کی مخلوقات کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ گویا خَلَقَ قائم مقام ہے خَلَقَ كُلَّ الْمَخْلُوقَاتِ کا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ تو میرا پیغام پہنچانے کے لئے تیار ہو جا اس لئے کہ میں پیغام دینے والا تیرا پیدا کرنے والا اور تربیت کرنے والا ہوں اور جن لوگوں کی طرف بھجوا رہا ہوں وہ بھی میرے ہی پیدا کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے بارہ میں رَبِّهِمْ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ قرآنی پیغام سے پہلے خدا تعالیٰ کی کامل ربوبیت تلے نہیں آئے تھے بلکہ صرف خَلَقَ کی صفت کے نیچے آتے تھے۔ اگر خالی یہ کہا جاتا کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تو اس سے شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید لوگوں پر جبر کیا جا رہا ہے۔ آخر خدا تعالیٰ کو انہیں حکم دینے کا کیا حق