سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 351
صلى الله سيرة ة النبي علي 336 جلد 7 خالد، سعد بن وقاص ، عمرو بن عاص نے صحابہ میں سے اور موسیٰ ، طارق ، محمد بن قاسم نے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں سے اور چنگیز خان ، قبلائی خاں اور باتو خاں اور تیمور سے اور : نے ایشیائی مسلمانوں اور غیر مسلموں میں سے حیرت انگیز کام کئے ہیں ۔ چند دن ہوئے میں باتو خاں کے متعلق کچھ باتیں معلوم کرنے کے لئے انسائیکلو پیڈیا دیکھ رہا تھا تو میں نے اُس میں پڑھا کہ اُس کے زمانہ میں لاریاں نہیں تھیں، گاڑیاں نہیں تھیں اور نہ دوسرے موجودہ زمانہ کے نقل و حرکت کے سامان میسر تھے ۔ باوجود اس کے وہ ایک لشکر جرار کے ساتھ آیا۔ یورپ کی تمام قو میں اور حکومتیں اس کے مقابلہ کے لئے اکٹھی ہو گئیں ۔ وہ چکر کھا کر پولینڈ کی طرف چلا گیا۔ یورپین قو میں خوشیاں منانے لگیں کہ ہم با تو خاں سے بچ گئی ہیں لیکن ابھی وہ لوگ خوشی کا جشن ہی منا رہے تھے کہ وہ بجلی کی سی رفتار سے پولینڈ کو فتح کرتے ہوئے ہنگری کے اُن میدانوں میں اتر آیا جہاں یورپ کی فوجیں جمع تھیں ۔ غرض با وجود سامان نقل و حرکت کے نہ ہونے کے یہ لوگ اس طرح سفر کرتے تھے جس طرح آندھیاں چلتی ہیں اور یہ محض ہوشیاری اور ذہانت کی وجہ سے تھا۔ وہ لوگ بے سوچے سمجھے کام نہیں کرتے تھے بلکہ عقل سے کام لیتے تھے۔ اسی طرح تیمور تھا ، نپولین تھا یا اس زمانہ میں ہٹلر تھا۔ چاہے وہ نا کام ہو گیا لیکن ایک عرصہ تک لوگ حیران تھے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ پس فطرت صحیحہ سے کام لینے والا شاندار کام کر جاتا ہے اور جب اس فطرت کے ساتھ نور مل جائے تو پھر نُورٌ عَلَى نُورٍ ہو جاتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ کو ایسی فطرت عطا ہوئی تھی کہ اگر آگ نہ بھی ہوتی تب بھی وہ جل اٹھتی ۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ نور نے آ کر فطرت صحیحہ کو نُورٌ عَلی نور کر دیا تھا لیکن فطرت صحیحہ آپ کو پہلے سے عطا کی جا چکی تھی ۔ خدا تعالیٰ کا پہلا کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنے ڈراؤنے اور حیران کن حالات میں نازل ہوتا ہے۔ ایک شخص تنہائی میں شہر سے کئی میل دور عبادت کر رہا تھا کہ ایک فرشتہ آتا ہے اور