سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 350
لله صلى الله سيرة ابي عليه 335 جلد 7 دیکھنے والے کے لئے وہ نظارہ نہایت ڈراؤنا اور ہیبت ناک ہوتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے اور اُس کا دل مرعوب ہو جاتا ہے۔ اگر تمہیں محض ایک فرشتہ نظر آتا اور وہ کہتا اٹھو اور فلاں کام کرو تو تم فوراً وہ کام کرنے لگ جاتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرشتہ نظر آتا ہے جنگل میں جہاں آپ اکیلے تھے۔ ایک ہیبت ناک چیز کا سامنے آ جانا جو پہاڑوں کی پرواہ بھی نہیں کرتی اور اُنہیں طے کر کے آ جاتی ہے کوئی کم ہیبت ناک نظارہ نہیں تھا مگر جب وہ فرشتہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے اقرا تو عالم الغیب خدا جانتا تھا کہ محمد رسول اللہ صرف فرشتہ کے کہنے کی وجہ سے پڑھنے نہیں لگ جائیں گے وہ دلیل چاہیں گے ۔ اس لئے اُس نے اس پیغام میں جو آپ کو دیا گیا ساتھ دلیل بھی رکھ دی اور اِقْرَأ ہی نہیں کہا بلکہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سے آپ کو مخاطب کیا گیا تا آپ کہہ سکیں کہ آپ کو کیوں پڑھنا چاہئے اور آپ کے پڑھنے میں کوئی فائدہ بھی ہو گا یا نہیں ۔ اگر خالی اقرأ کہا جاتا تو آپ خیال کر سکتے تھے کہ میں اپنی قوم کو اور اپنے شہر کو چھوڑ کر یہاں آ گیا ہوں ۔ میری قوم کو جو رتبہ حاصل تھا میں نے اُس کی بھی پرواہ نہیں کی اس لئے کہ وہ جو کچھ کرتی تھی بلا دلیل کرتی تھی اب میں اس کی بات کیوں مانوں ۔ پس آپ کے اخلاق کا پہلا حصہ اس آیت میں نظر آ جاتا ہے اس لئے کہ جب فرشتہ نے کہا اِقْرَأْ تو پڑھ تو اس نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تُو اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ یعنی جو خدا تیرا خالق و مالک ہے وہ اپنے خالق و مالک ہونے کی وجہ سے تجھے حکم دیتا ہے بلا وجہ حکم نہیں دیتا۔ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فطرتِ صحیحہ کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ کوئی کام بلا وجہ اور بلا دلیل نہیں کرتے تھے۔ جب کوئی انسان اس حکمت کے ماتحت کام کرنے لگ جائے تو خواہ اسے الہام کی روشنی نصیب نہ ہو وہ شاندار کام کر جاتا ہے۔ چنانچہ بعض جرنیلوں نے باوجود اسباب کی کمی کے نہایت شاندار کام کیا ہے اس لئے کہ وہ فطرت کے مطابق چلتے تھے۔