سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 349
سيرة النبي علي صلى الله 334 جلد 7 تا وہ ان واقعات سے نتیجہ اخذ کر سکیں اور اس کے بعد غیر معروف نبیوں کا صرف اصولی طور پر ذکر کر دیا گیا ہے۔ پس جب بھی کسی سے کلام کیا جاتا ہے تو کلام میں مخاطب کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اب اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ ایک فقرہ ہے جس میں بظاہر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے اور رب کے معنے ہیں وہ ذات جس نے انسان کو پیدا کیا اور پھر ایسے ذرائع مہیا کئے جن پر عمل کر کے وہ دنیا میں ترقی کر سکتا ہے اور پھر بڑھاتے بڑھاتے انسان کو کمال تک پہنچا دیا۔ پس جہاں تک انسان کی پیدائش کا سوال ہے وہ لفظ رب میں آ جاتا تھا اور یہ کہنا کافی تھا کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ پڑھ اُسی رب کا نام لے کر جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے لیکن اس جگہ اپنے رب کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ان الفاظ سے بنی نوع انسان کی پیدائش اور ان کی ربوبیت کے مضمون سے ترقی کر کے خود اس فرد مخاطب کی پیدائش اور ربوبیت کی طرف توجہ پھیری گئی ہے جو قرآن کریم کا سب سے پہلا مخاطب ہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ 66 ۔ اس آیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فطرت کا پتہ لگتا ہے۔ بہت سے انسان سوچ سمجھ کر کام نہیں کرتے بلکہ عادتاً یا رسم و رواج کی نقل میں کام کرتے ہیں ۔ کسی کو اگر فرشتہ نظر آ جاتا ہے تو یہ ایک شاندار حادثہ ہے اس کے لئے اس شخص کو کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جب انسان کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے جو عام حالات میں سامنے نہیں آتی تو دوسرا بے شک یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ وہم ہے لیکن جس شخص پر یہ بات گزرتی ہے وہ اسے وہم نہیں سمجھتا وہ اسے حقیقت سمجھتا ہے۔ مثلاً ایک شخص خواب میں سانپ دیکھتا ہے وہ روتا ہے، چیختا ہے اور دوڑتا ہے۔ اب دوسروں کے لئے تو یہ ایک خواب ہے لیکن جس نے یہ نظارہ دیکھا ہے اُس پر وہ تمام کیفیات طاری ہو جاتی ہیں جو فی الواقعہ سانپ دیکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں ۔ اسی طرح فرض کرو کہ ایک شخص فرشتہ دیکھتا ہے لیکن دراصل وہ فرشتہ نہیں ہوتا بلکہ محض وہم ہوتا ہے تو بھی