سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 348
له صلى الله سيرة ابي عليه 333 جلد 7 غار حرا میں عبادت کرتے ۔ جب کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تو گھر واپس آتے اور مزید سامان لے کر واپس غار حرا چلے جاتے 2۔ اس عرصہ میں آپ پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوا۔ ایک فرشتہ آیا اور اُس نے کہا اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ -3- یہ پہلا کلام ہے جو آپ پر نازل ہوا اور غارِ حرا میں نازل ہوا۔ اس کا ایک پہلو تو تعلیمی ہے اس کو میں اس وقت نظر انداز کرتا ہوں ۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جب کسی سے کلام کیا جاتا ہے تو پہلا مخاطب وہی ہوتا ہے اور کلام میں اس کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے پہلے مخاطب عرب لوگ تھے اس لئے اس میں جو واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ وہی ہیں جنہیں عرب لوگ جانتے تھے۔ قرآن کریم میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے یا عرب کے بعض نبیوں اور قوموں کا ذکر ہے ۔ جیسے ثمود اور عاد کا ذکر ہے جو عرب میں یا عرب کے کناروں میں گزری ہیں اور عرب لوگ ان واقف تھے لیکن قرآن کریم میں حضرت کرشن اور حضرت رام چندر علیہما السلام کا ذکر نہیں ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کو قرآن کریم خدا تعالیٰ کا نبی نہیں مانتا۔ قرآن کریم سے وا 1 نے إِنَّا أَرْسَلْتُكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ 4 - کہہ کر ان کی نبوت کو تسلیم کیا ہے ۔ اس کا ایک طرف یہ کہنا کہ ہر قوم میں نبی گزرا ہے ، اور دوسری طرف ان سب کا ذکر نہ کرنا بلکہ صرف اُن کا ذکر کرنا جو عرب کے علاقہ میں گزرے ہیں یا اُس کے ارد گرد گزرے ہیں یہ بتاتا ہے کہ قرآن کریم میں صرف اُن انبیاء اور قوموں کا ذکر ہے جو عرب کے ساتھ ساتھ تھیں اور عرب لوگ اُنہیں جانتے تھے کیونکہ جو شخص پیغام کو صحیح طور پر سمجھ نہ سکے وہ صحیح طور پر پیغام نہیں پہنچا سکتا ۔ صحیح پیغام پہنچانے کے لئے ضروری تھا کہ جن کو وہ پیغام دیا گیا ہے وہ اُسے سمجھ سکتے اس لئے قرآن کریم میں صرف ان انبیاء اور قوموں کا ذکر آتا ہے جن کو عرب لوگ جانتے تھے