سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 347

سيرة ة النبي علي صلى الله 332 جلد 7 پتھر گرا جو نیچے جا کر ایک پتھر پر ٹک گیا اور ایک پہلو پر ایک اور پتھر آٹکا اس طرح وہ جگہ ایک کمرہ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے جس کا رقبہ سات اختیار کرگئی کا یہ آٹھ فٹ ہوگا کیونکہ میں نے جب وہاں نماز پڑھی ہے تو وہاں کوئی ایسی زائد جگہ نظر نہیں آتی تھی کہ دو تین آدمی وہاں بیٹھ جائیں لیکن یہ جگہ اونچی ہے اور انسان کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیر کے دوران میں اس جگہ کو دیکھا اور اسے عبادت کے لئے چن لیا۔ غارا سے کہتے ہیں جو زمین کے اندر گھسی ہوئی ہو لیکن غار حرا زمین کے اندر گھسی ہوئی نہیں بلکہ وہ تین چار پتھر ہیں جو ایک دوسرے کے سہارے کھڑے ہیں اور اس طرح ایک کمرہ بن گیا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں عبادت کیا کرتے تھے وہ علیحد گی معمولی علیحد گی نہیں تھی ۔ حرا مکہ سے چار پانچ میل کے فاصلہ پر ایک ویران جگہ میں واقع ہے اس کے قریب کوئی آبادی نہیں ۔ اتنی دور جا کر بیٹھنا بڑی ہمت کا کام ہے اور یہ کام انسان اُسی وقت کر سکتا ہے جب وہ دنیا سے بیزار ہو جائے اور اس سے بالکل علیحدگی اختیار کر لے ۔ آپ نے اس جگہ عبادت کی اور اس سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ میں نے دنیا بالکل چھوڑ دی ہے جیسے ہندوؤں کے سادھو پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں اور اس طرح لوگوں سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت آپ کو یہ خیال آیا کہ یہ دنیا رہنے کے قابل نہیں اصل ذات اللہ تعالیٰ کی ہے جس سے دل لگانا چاہئے ۔ اس وجہ سے مکہ سے دور جا کر عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت سے م معلوم ہوتا ہے کہ آپ کھانے پینے کا ساتھ لے جاتے ۔ اُس زمانہ کے لحاظ سے یہ سامان ستو ، کھجوریں اور چھا گل پانی کی قسم کا ہوا کرتا تھا اور عرب میں اتنی غذا کو کافی سمجھا جاتا تھا۔ شور بہ چاول تو دو چار دن تک کام نہیں دے سکتے ۔ زیادہ دیر تک یہی خشک چیزیں کام دیتی ہیں ۔ حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آپ کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جاتے اور کئی کئی دن تک کا سامان