سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 346
سيرة ة النبي علي صلى الله 331 جلد 7 تہہ کے نیچے تیسرا مضمون ہے اور اس طرح تھوڑے سے الفاظ میں ہزاروں مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں ۔ حفظ کرنے والے اسے آسانی سے حفظ کر سکتے ہیں اور پڑھنے والے اسے جلدی پڑھ لیتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور سوانح بھی قرآن کریم میں تہہ بہ تہہ بیان کئے گئے ہیں ۔ ظاہر الفاظ میں مضمون اور ہوتا ہے لیکن ان کے نیچے اور مضامین بھی ہوتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو پہلا مقام جہاں آپ پر کلام الہی نازل ہوا وہ غار حرا تھی ۔ دنیا کے لیڈر جب کوئی امنگ رکھتے ہیں یا اپنے اندر کوئی خوبی دیکھتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو باہر لاتے ہیں اور اپنی خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اس طرح لوگوں کی توجہ اُن کی طرف پھرتی ہے اور وہ اپنے اردگرد ایک جماعت اکٹھی کر لیتے ہیں لیکن اس کے بر خلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے الگ ہو گئے تھے ۔ آپ غار حرا میں چلے جاتے تھے اور کئی کئی دن تک آپ وہاں عبادت کرتے تھے۔ غار ثور تک تو میں جا نہیں سکا میرے دل کو اُن دنوں تکلیف تھی اور غار ثور پہاڑ پر ایک ننگی جگہ واقع ہے اور اس کے نیچے کھڑ آتی ہے۔ عین اُس جگہ پہنچ کر کہ جہاں سے غار ثور قریباً سو گز رہ گئی تھی میں بیٹھ گیا اور اپنے ایک ساتھی کو وہاں بھیجا کہ وہ غار دیکھ آئے ۔ غار حرا میں میں خود گیا ہوں اور قریباً ایک گھنٹہ تک میں نے وہاں نماز پڑھی ہے اور دعائیں کی ہیں ۔ غار حرا استعارہ کے طور پر غار کہلاتی ہے لیکن دراصل وہ غار نہیں بلکہ حرا پہاڑی پر چڑھ جائیں تو جو رستہ معروف ہے وَ اللهُ اَعْلَمُ کہ یہی رستہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا بہر حال جو اس وقت معروف رستہ ہے اس کے ذریعہ اگر پہاڑی کی چوٹی تک چلے جائیں تو اس کی چوٹی تک کوئی غار نہیں آتی ۔ غار حرا میں جانے کے لئے چوٹی سے نیچے اترنا پڑتا ہے اور چند گز نیچے جا کر ایک جگہ آتی ہے جسے غار حرا کہتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں یہاں زلزلہ آیا جس کے نتیجہ میں چوٹی سے ایک