سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 345

صلى الله سيرة النبي علي 330 جلد 7 جانور اور حیوانات رکھتا تھا ۔ پھر وہ چند گز اور مٹی کھودے گا اور اس زمین سے جس کو سرسری طور پر دیکھ کر ہم نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ اس میں فصل زیادہ ہو گی یا کم ، عمارت کئی منزلوں والی بن سکے گی یا نہیں ، وہ ماہر فن یہ نتیجہ نکالے گا کہ فلاں فلاں وقت میں اس زمین میں یہ یہ تبدیلیاں اندرونی آگ یا گرمی کی وجہ سے پیدا ہوئیں یا دھاتوں نے پگھل پگھل کر اس کے اندر یہ یہ تغیرات پیدا کر دیئے ۔ اسی طرح وہ نیچے چلتا جائے گا اور تاریخ کے مختلف زمانے بیان کرتا جائے گا ۔ وہ محض اس زمین کو دیکھ کر دو دو تین تین ہزار سال تک کے واقعات بیان کرے گا اور یہ سب چیزیں زمین کے اندر مخفی ہوں گی ۔ یہی حال قرآن کریم کا ہے۔ اس کے مطالب بھی الفاظ کی تہوں کے نیچے چھپے ہوتے ہیں۔ اگر زمین کی سب چیزوں کو باہر نکال کر پھیلا دیا جائے تو انسان کا زمین پر چلنا پھرنا مشکل ہو جائے گا لیکن چونکہ وہ سب چیزیں زمین کے اندر تہہ بہ تہہ رکھی ہوئی ہیں اس لئے ہم اس کے اوپر چلتے پھرتے ہیں لیکن جب اسے کھودتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مثلاً اس کے اندر چونے کی چٹانیں ہیں ۔ اگر وہ چونے کی چٹانیں باہر نکال کر سطح پر پھیلا دی جائیں تو کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہاں ربوہ آباد ہو سکتا تھا ؟ یہ جگہ بجائے آدمیوں کے چٹانوں سے بھری ہوئی ہوتی ۔ اس طرح وہ سب مطالب جو قرآنی الفاظ کی تہوں میں چھپے ہوئے ہیں باہر نکال لئے جاتے اور ظاہری الفاظ میں انہیں بیان کیا جاتا تو جیسے اس زمین کی اندر کی چیزیں اگر باہر آ جائیں تو ربوہ آباد نہیں ہو سکتا تھا وہ چیزیں پھیل کر سینکڑوں میل کا علاقہ رک جاتا اسی طرح قرآن کریم کو بھی انسان نہیں پڑھ سکتا تھا۔ وہ اتنی بڑی کتاب ہو جاتی کہ کتاب نہ رہتی ایک عظیم الشان لائبریری ہو جاتی اور اس میں ہزاروں کتب رکھی ہوئی ہوتیں ۔ ایک نسل انسانی کہہ دیتی کہ ہم نے اس کے پانچ سو صفحات پڑھے ہیں ، دوسری کہتی کہ ہم نے اس کے ایک ہزار صفحات پڑھے ہیں ۔ اب قرآن کریم ایک چھوٹی سی کتاب ہے لیکن زمین کی طرح اس کی ایک تہہ کے نیچے ایک مضمون ہے دوسری تہہ کے نیچے دوسرا مضمون ہے تیسری