سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 344

سيرة النبي علي صلى الله 329 جلد 7 احاطہ کرنا چاہو تو وہ سب کی سب قرآن کریم میں مل سکتی ہیں ۔ وہ سب کی سب کسی انسانی تصنیف میں نہیں مل سکتیں ۔ انسان اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام، صلی اللہ وسلم کےاحکام اعمال اور خوبیوں کو گنے گا تو ان میں بہت سی کو تا ہی رہ جائے گی اور جب تم اس کتاب کو دیکھو گے تو کہو گے اوہو! وہ فلاں خوبی بیان کرنا تو بھول گیا لیکن قرآن کریم لکھنے والا بھولتا نہیں ۔ اس لئے جب تم قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں ، آپ کے اعمال واقوال اور اخلاق دیکھو گے تو تم یہ نہیں کہو گے کہ اوہو! فلاں چیز رہ گئی ہے بلکہ تم یہ کہو گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ خوبی بھی تھی لیکن میں نے اس کا خیال نہیں کیا تھا۔ پس اگر کسی انسان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں ، اخلاق اور اعمال و اقوال کا احاطہ کرنا ہو تو اس کا ذریعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کو دیکھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ آپ کے کیا اعمال ہیں اور آپ کے کیا اقوال ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ، سیرت اور سوانح پر مشتمل نہیں لیکن اس میں یہ خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تو اس کے تمام متعلقہ مضامین کو اُس کے نیچے تہہ بہ تہ جمع کر دیتا ہے ۔ بالکل اُسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں ۔ اوپر کے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے، دوسرے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے، تیسرے طبقہ میں اور قسم کی مٹی ہوتی ہے۔ اور جب ہم کسی زمین کو دیکھتے ہیں تو اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ زمین اچھی پیداوار دینے والی ہے یا بری پیداوار دینے والی ہے۔ یہ کنکریلی زمین ہے یا اس میں عمدہ لیس دارمٹی پائی جاتی ہے اور اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس میں فصل اچھی ہوگی یا خراب ہو گی ۔ مکان اچھے تعمیر ہوں گے یا خراب تعمیر ہوں گے، بنیادیں گہری کھودنی پڑیں گی یا تھوڑی، عمارت کئی منزلوں کی بن سکے گی یا وہ زمین زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکے گی لیکن ایک ماہر فن اس زمین کو کھو دے گا تو کہہ دے گا کہ اتنے گز زمین کھودنے کے بعد پتہ لگتا ہے کہ اتنے ہزار سال پہلے اس جگہ میں پانی ہوتا تھا اور وہ اپنے اندر فلاں قسم کے -