سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 343
سيرة النبي علي صلى الله 328 جلد 7 صلى الله رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات حضرت مصلح موعود نے 18 نومبر 1951 ء کو بیت مبارک ربوہ میں سیرۃ النبی ﷺ کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔ صلى الله عليسة رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کوئی ایسی چیز نہیں ہیں کہ جنہیں کوئی انسان ایک بیٹھک میں یا ایک تصنیف میں بیان کر سکے ۔ آپ کے اعمال ، آپ کے یا ایک میں کر ۔ آپ کے کے ۔ کے اقوال اور آپ کے جذبات اتنے متنوع تھے اور اتنی اقسام پر مشتمل تھے کہ انہیں ایک وقت میں یا ایک بیٹھک میں محسوب کر لینا، گن لینا اور شمار کر لینا انسانی طاقت سے بالا ہے ۔ در حقیقت جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفات الہیہ کو بیان کیا ہے اور ایسے رنگ میں بیان کیا ہے کہ اور کوئی شخص اس طرح صفات الہیہ کو بیان نہیں کر سکا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو جس طرح قرآن کریم نے بیان کیا ہے یا خدا تعالیٰ نے ان کا احاطہ کیا ہے اُس طرح اور کوئی انسان ان کو بیان نہیں کر سکتا اور نہ ان کا احاطہ کر سکتا ہے ۔ احادیث کی کتب میں حضرت عائشہؓ سے ایک قول مروی ہے کہ آپ نے فرمایا كَانَ خُلُقُهُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ 1 اس کے ایک معنے تو یہ ہیں جو ہمیشہ کئے جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام صفات اور تمام خوبیاں قرآن کریم میں ہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام صفات اور تمام قرآن کریم میں اللہ اور بیان ہوئی ہیں یعنی قرآن کریم میں جن اخلاق کو سکھایا گیا ہے اُن سب پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔ لیکن اس کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اگر تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور خوبیوں کو جمع کرنا چاہو اور اُن کا