سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 342

صلى الله سيرة النبي علي 327 جلد 7 رسول کریم ﷺ کا بچوں کی تربیت کرنا حضرت مصلح موعود نے 21 ستمبر 1951 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔ ” احادیث میں آتا ہے کہ حضرت حسن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ انہیں ترکاری پسند آئی تو پلیٹ میں ہاتھ مارا تا اس کے ٹکڑے تلاش کر کے کھائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا كُلِّ بِيَمِينِكَ وَمِمَّا يَلِيْكَ 1 کہ دائیں ہاتھ سے سے کھاؤ اور وہاں سے کھاؤ جو تمہارے سامنے ہے۔ یہ تہذیب کا سبق ہے جو آپ نے بچہ کو سکھایا کہ کہاں سے کھانا ہے اور کس طرح کھانا ہے۔ لیکن آج کل کی ماؤں کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا اور بجائے سمجھانے کے انہیں پیار کرنے لگ جاتی ہیں ۔ ایک دفعہ صدقات کی کھجوریں آئیں تو حضرت حسنؓ نے ڈھیر میں سے ایک کھجور لی اور منہ میں ڈال لی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھ لیا اور فرمایا نہیں نہیں ! یہ کھجور میں صدقہ کی ہیں ۔ پھر آپ نے حضرت حسنؓ کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکال لی 2 ۔ لیکن آجکل کی مائیں ایسے موقع پر کہہ دیتی ہیں کہ بچہ بیچارہ کم سمجھ ہے بلکہ اگر وہ رو پڑے تو خوداُ سے کہیں گی کہ اچھا کھا لے کھا لے۔“ ( الفضل 10 مئی 1961 ء ) 1: بخارى كتاب الاطعمة باب التسمية على الطعام والاكل باليمين صفحہ 960 حدیث نمبر 5376 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية میں کل بیمینک و کل مما یلیک“ کے الفاظ ہیں ۔ لى 2 بخارى كتاب الزكواة باب ما يذكر في الصدقة للنبي عليه صفحہ 242 حدیث نمبر 1491 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية صلى الله