سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 354
صلى الله سيرة ة النبي علي 339 جلد 7 نطفہ سے ہم نے علقہ پیدا پیدا کیا اور علقہ اور علقہ سے مُضغہ بنایا۔ مضغہ سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا اور اس کے بعد اس کے اندر ایک اہم تغیر کر کے روح پیدا کی 5 لیکن اس آیت اس آیت کے ایک تحت السطح معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ عربی محاورہ میں خُلِقَ مِنْ شَيْءٍ کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اس کی فطرت میں یہ چیز رکھی گئی ہے مثلًا وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَلَةٍ مِّنْ طِين 6 کے معنے ہوں گے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے لیکن جب مِنْ عَجَلٍ 7 آ جائے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ہم نے انسان کو جلدی سے پیدا کیا ہے ۔ جلدی کوئی مادہ تو نہیں کہ اسے گھولا اور انسان پیدا کر دیا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کی فطرت میں عجلت رکھی گئی ہے۔ پس جہاں علق کے ایک معنے یہ تھے کہ ہم نے انسان کو اس حالت سے پیدا کیا ہے کہ وہ رحم سے چمٹا ہوا تھا وہاں اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسان کی فطرت میں محبت اور علاقہ کا مادہ رکھا ہے۔ جیسے مِنْ عَجَلٍ کے عربی محاورہ کے رو سے یہ معنے ہیں کہ انسان کے اندر عجلت رکھی گئی ہے۔ پس خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ کے ایک معنے یہ ہیں کہ انسان کی فطرت میں یہ مادہ رکھا گیا ہے کہ وہ کسی کا ہو رہے۔ شعراء اور صوفیاء کا خیال بھی یہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پنجابی کا ایک مصرعہ سنایا کرتے تھے جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہا لیکن اُس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو تو کسی کا ہو جایا کوئی تمہارا ہو جائے ۔ پس خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ کے یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسانی فطرت میں محبت اور علاقہ کا مادہ رکھا ہے ۔ ہم نے اسے اسی حالت پر پیدا کیا ہے کہ وہ کسی کا ہور ہے۔ اس لئے اے رسول! تو دوسرے لوگوں کے پاس جا اور اس بات کا خیال نہ کر کہ بظاہر حالات وہ تیرے پیغام کو نہیں سنیں گے کیونکہ ہم نے انسان کی فطرت میں یہ چیز رکھ دی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہو کر رہنا چاہتا ہے ۔ بے شک جب تک اسے اصل چیز نہیں ملتی اُس وقت تک کبھی وہ بیوی کا ہو رہتا ہے، کبھی بہن بھائی کا ہو رہتا ہے، کبھی وہ ماں باپ کا کا ہو رہتا ہے، ہے، ہے کبھی ، بھی وہ دوستوں کا ہو رہتا ہے۔ وہ درمیان