سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 339

صلى الله سيرة النبي علي 324 جلد 7 رسول کریم ﷺ کی بے لوث خدمات دینیہ حضرت مصلح موعود نے 18 مئی 1951 ء کور بوہ میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا:۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی خدمت کرنے والے کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں وہ کپڑوں اور مکان کے محتاج بھی ہوتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھاتے تھے پیتے بھی تھے کپڑے بھی پہنتے تھے اور مکان میں بھی رہتے تھے۔ قرآن کریم میں کفار کا یہ اعتراض درج ہے کہ یہ کیسا نبی آ گیا ؟ یہ تو ہماری طرح بازار میں چلتا پھرتا ہے، کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے 1۔ اب اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حوائج انسانی سے مستثنیٰ نہیں تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک عام دنیادار میں کیا فرق ہے؟ وہ فرق صرف یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے لئے زندہ رہتے تھے۔ کھانا، پینا، کپڑا پہننا درمیانی شغل تھا۔ لیکن ایک دنیا دار دنیا میں صرف کھانے پینے کے لئے زندہ رہتا ہے ۔ ہاں ! کبھی کبھی خدا تعالیٰ کا بھی ذکر کر لیتا ہے ۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو آپ نے ان چیزوں کا انکار کیا ہے، انہیں دھتکارا اور رد کیا ہے۔ آپ نے یہ نہیں کہا کہ مجھے پچاس روپے کی ضرورت ہے مجھے مہیا کر کے دو۔ اور اگر تم مجھے پچاس روپے نہیں دیتے تو تم جہنم میں جاؤ میں تمہیں قرآن نہیں پڑھاتا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ صلی علیہ نے فاقے بھی دیئے، آپ کے رستے بھی روکے، آپ کو اور آپ کے متبعین کو کے رستے بھی رو کو اور کے کو مارا پیٹا بھی ، آپ کی ہتک بھی کی اور آپ کے عزیزوں اور پیاروں کو دکھ بھی دیئے لیکن آپ نے فرمایا تم جو چاہو کرو میں نے یہ کام کرنا ہے۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار نے فا