سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 340

صلى الله سيرة النبي علي 325 جلد 7 قرآن پڑھاتے ہیں اور اس کے بدلہ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ تم نہیں دیتے تو نہ دو۔ لیکن ایک دنیا دار کہتا ہے کہ تم دو گے کیا ؟ اگر وہ اسے کچھ نہیں دیتے تو وہ کہتا دنیا ہے دو کیا؟ دیتے تو ہے میں نے کیا بھوکا مرنا ہے میں کوئی اور کام تلاش کر لیتا ہوں ۔ تم نے اگر قرآن پڑھنا ہے تو میرے گزارے کا بھی انتظام کر دو ۔ گویا ایک مولوی بھی قرآن پڑھاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن پڑھاتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک عام مولوی میں یہ فرق ہے کہ مولوی کہتا ہے میرا چالیس روپے ماہوار میں گزارہ نہیں ہوتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم چالیس روپے مجھ سے لے لو مجھے گالیاں دے لو، میں نے تو اپنا کام کرنا ہے ۔ بظاہر یہ معمولی فرق ہے لیکن اس کے نتیجہ میں ایک رسول بن جاتا ہے اور ایک مولوی ۔ اور ایک رسول اور ایک مولوی میں جو فرق ہے تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے ۔ انسان یہ تو اندازہ لگا سکتا ہے کہ دور کا ایک ستارہ جو سورج سے بھی ہزاروں میلوں کے فاصلہ پر ہے وہ زمین سے کتنی دور ہے لیکن تم یہ اندازہ نہیں لگ سکتے کہ ایک رسول اور ایک مولوی میں کیا فرق ہے۔ یہ کیوں ہوا؟ یہ اسی لئے ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ -2 - میں قرآن کریم کے بدلہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا ۔ لیکن ایک مولوی کہتا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھاؤں گا حدیث سناؤں گا لیکن تم مجھے دو گے کیا ؟ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک مولوی میں یہ فرق ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھانے کے بدلہ میں کچھ نہیں مانگا لیکن مولوی اس کے بدلہ میں اپنے گزارے کے لئے کچھ مانگتا ہے ۔ یہی وجہ ہے ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متبعین میں سے کوئی موسٹی کا مثیل ہوا، کوئی عیسی کا مثیل ہوا، کوئی داؤڈ کا مثیل ہوا اور کوئی سلیمان کا مثیل ہوا۔ آپ کے سب صحابہ ستارے تھے جو دنیا کے لئے راہ نمائی کا موجب بنے ۔ لیکن عام علماء میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کے پردے