سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 338
صلى الله سيرة النبي علي 323 جلد 7 اختیار کر رہی تھی اور کفار کا زور بڑھ رہا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکروں کی ایک مٹھی اٹھا کر دشمنوں کی طرف پھینکی اور فرمایا شَاهَتِ الْوُجُوهُ 3 دشمنوں کے منہ بگڑ جائیں ۔ تب خدا تعالیٰ نے آپ کے اس فعل کے ساتھ ہی ایک تیز آندھی چلا دی جس کی وجہ سے اُس میدان سے کہ جس میں مسلمان کھڑے تھے ریت کے تو دے اڑ اڑ کر کفار کی آنکھوں میں پڑنے شروع ہوئے اور وہ دیکھنے سے معذور ہو گئے اور اُن کے تیر مخالف ہوا کی شدت کی وجہ سے آدھے راستے میں ہی گرنے لگ گئے اور مسلمانوں کو ایک غیر معمولی طاقت اور قوت حاصل ہوگئی ۔ کیا یہ معجزہ نہیں؟ اور کیا اس واقعہ کو بیان کر کے قرآن کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف معجزہ منسوب نہیں کیا ؟ ہاں قرآن کریم اس قسم کی جاہلانہ باتیں نہیں کہتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی مردے زندہ کیا کرتے تھے یا سورج اور چاند کی رفتار کو ٹھہرا دیا کرتے تھے یا دریاؤں کو کھڑا کر دیتے تھے یا پہاڑوں کو چلایا کرتے تھے۔ یہ تو پنگھوڑے میں کھیلنے الے کریم نہ محمدرسول علیہ والے بچوں کی کہانیاں ہیں۔ ان باتوں کو قرآن کریم نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے نہ کسی اور نبی کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ اگر پہلی کتب میں اس قسم کی باتیں بیان بھی ہوئی ہیں تو قرآن کریم ان کی تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ باتیں محض استعارہ ہیں لوگوں نے ان کو حقیقی رنگ دینے میں غلطی کی ہے ۔“ 66 دیبا چه تفسیر القرآن صفحه 286 تا 288 مطبوعہ نفیس پرنٹرز لاہور 1948ء ) 1 : التوبة : 40 2: الانفال: 18 3 مسند احمد بن حنبل - مسند عبد الله بن العباس صفحه 232 حدیث نمبر 2762 مطبوعہ لبنان 2004ء