سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 337
سيرة النبي علي صلى الله 322 جلد 7 نے خدائی کے اختیار بندوں کو دے دیئے ہیں وہ سچائی کے پیرو کہلا سکتے ہیں یا وہ جو اپنی بشریت کا اظہار کرتے ہوئے اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنے پیارے بندوں کے واسطہ سے معجزہ دکھاتا ہے۔ علاوہ پیشگوئیوں کے قرآن کریم میں دوسری قسم کے معجزات کا بھی ذکر آتا ہے مثلاً قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ کا ذکر آتا ہے کہ غار ثور میں جب آپ پناہ گزیں تھے تو مکہ والے کھوجیوں کو لے کر آپ کا کھوج نکالتے ہوئے غار ثور تک پہنچ گئے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس وقت حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر گھبرائے مگر آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا 1 گھبراؤ نہیں خدا ہمارے ساتھ ہے۔ دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کیا یہ معجزہ نہیں جس کو قرآن کریم بیان کرتا ہے؟ کیا دنیا اس کی مثال پیش کر سکتی ہے ! دو آدمی بے سروسامان ایک غار میں بیٹھے ہیں ، دشمن ان کا تعاقب کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا ہے اور یونہی رسمی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کے بھاگنے کو اپنی شکست تصور کرتا ہے اور اسے اتنا اہم معاملہ سمجھتا ہے کہ وہ آپ کے پکڑے جانے پر سو اونٹ کا انعام مقرر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے کہ کھوجی کہتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھوج یہاں تک آتا ہے آگے نہیں جاتا مکہ کے لوگوں کی آنکھوں اور اُن کے دلوں پر خدا تعالیٰ ایسا قبضہ کر لیتا ہے کہ تین میل تعاقب کرنے کے بعد اور اتنا انعام شائع کر دینے کے بعد اُن میں سے کسی شخص کو توفیق نہیں ملتی کہ وہ غار کے اندر جھانک سکے اور وہیں سے سب مکہ والے لوٹ جاتے ہیں ۔ اس سے بڑا معجزہ دنیا میں اور کیا ہوگا ۔ پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جنگ بدر کے متعلق فرماتا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی ایک مٹھی پھینکی اور اُس کے ساتھ دشمن تہ و بالا ہو گیا 2 حدیثوں سے اس واقعہ کی تفصیل یوں معلوم ہوتی ہے کہ جب بدر کی جنگ شدت