سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 336
سيرة ة النبي علي صلى الله 321 جلد 7 غالب اور فاتح شخص کی حیثیت میں مکہ میں واپس لوٹنے کی خبر دی گئی یا جب قرآن کریم میں رومیوں کی خطر ناک شکست کے بعد اُن کے دوبارہ کامیاب ہو جانے اور ایرانیوں کے شکست کھانے کی خبر دی گئی یا جب قرآن کریم نے اسلام کے تمام عرب میں پھیل جانے کی خبر دی اور پھر دنیا کے دوسرے تمام ادیان پر غالب آجانے کی خبر دی اور آئندہ واقعات نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی تو کیا یہ معجزہ نہ تھا اور کیا ان باتوں کے بیان کرنے کے بعد قرآن کریم یہ دعوی کر سکتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا ؟ قرآن کریم کی جن آیتوں سے معترضین یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معجزہ نہیں دکھا یا در حقیقت اس کا باعث ان کی عربی سے نا واقفیت اور قرآن کریم کے اسلوب سے لاعلمی ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جہاں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہمیں معجزہ کے بھیجنے سے کسی بات نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ پہلے لوگ معجزات کا انکار کرتے چلے آئے ہیں وہاں آیت کے یہ معنی نہیں جیسا کہ عیسائی مصنفین نے سمجھا کہ اس وجہ سے ہم معجزہ دکھانے سے رک گئے ہیں بلکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ معجزہ دکھانے میں روک ہی کون سی ہے۔ صرف اتنی ہی روک ہوسکتی ہے کہ پہلے لوگوں نے معجزوں کا انکار کیا تو یہ کوئی روک نہیں باوجود اس کے کہ ابتدائی انبیاء کے دشمنوں نے ان کے معجزوں کو رد کیا ان کے بعد آنے والے انبیاء کو بھی معجزات ملتے رہے۔ پھر وجہ کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معجزات نہ ملیں ۔ یا جب کفار کے مطالبہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہا جاتا ہے کہ میں تو تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں تو اس میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر معجزات ظاہر نہیں ہوتے بلکہ اس جگہ صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ معجزہ دکھانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہیں خدا تعالیٰ کا کام ہے ۔ کیا اس زبردست حقیقت کا اظہار قرآن کریم کی شان بڑھاتا ہے یا گھٹاتا ہے؟ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ