سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 32

صلى الله سيرة النبي علي 17 دو جلد 7 دوسرے کو آنکھیں ماریں اور نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو جتایا کہ یہ لوگ مجنون ہو گئے ہیں ان کی باتوں سے گھبراؤ نہیں بلکہ سنو اور مزہ اٹھاؤ ۔ مگر حق اپنی پوری شان کے ساتھ ظاہر ہونا شروع ہوا اور یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق حکم پر حکم ۔ حکم پر حکم ۔ قانون پر قانون ۔ قانون پر قانون 10 ہوتا گیا۔ ” تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں 11 اور ایک اجنبی زبان 12 سے جس سے عرب پہلے نا آشنا تھے خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عربوں سے باتیں کرنی شروع کیں ۔ نوجوانوں کے دل لرزنے لگے ، صداقت کے متلاشیوں کے جسموں پر کپکپی پیدا ہوئی ۔ اُن کی ہنسی اور ٹھٹھے اور استہزاء کی آوازوں میں پسندیدگی اور تحسین کے کلمات بھی آہستہ آہستہ بلند ہونے شروع ہوئے ۔ غلاموں ، نو جوانوں اور مظلوم عورتوں کا ایک جتھا آپ کے گرد جمع ہونے لگ گیا کیونکہ آپ کی آواز میں عورتیں اپنے حقوق کی دادرسی دیکھ رہی تھیں ۔ غلام اپنی آزادی کا اعلان سن رہے تھے۔ نوجوان بڑی بڑی امیدوں اور ترقیوں کے راستے کھلتے ہوئے محسوس کر رہے تھے۔ یڈران مکہ کی مخالفت جب نہی اور ٹھٹھے کی آوازوں میں سے حسین اور تعریف کی آوازیں بھی بلند ہونی شروع ہو گئیں تو دو مکہ کے رؤسا گھبرا گئے ، حکام کے دل میں خوف پیدا ہونے لگا۔ تب وہ جمع ہوئے اور اُنہوں نے مشورے کئے اور منصوبے باندھے اور ہنسی اور ٹھٹھے کی جگہ ظلم اور تعدی اور سختی اور قطع تعلق کی تجاویز کا فیصلہ کیا گیا اور اُن پر عمل ہونا شروع ہوا۔ اب مکہ سنجیدگی سے اسلام کے ساتھ ٹکرانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اب وہ ”’ پا گلا نہ دعوی ایک ترقی کرنے والی حقیقت نظر آ رہا تھا ۔ مکہ کی سیاست کے لئے خطرہ ، مکہ کے مذہب کے لئے خطرہ ، مکہ کے تمدن کے لئے خطرہ اور مکہ کے رسم و رواج کے لئے خطرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اسلام ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنا تا ہوا نظر آتا تھا۔ جس نئے آسمان اور نئی زمین کے ہوتے ہوئے عرب کا پرانا آسمان اور پرانی زمین قائم