سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 33

سيرة النبي علي صلى الله 18 جلد 7 نہیں رہ سکتے تھے ۔ اب یہ سوال مکہ والوں کے لئے ہنسی کا سوال نہیں رہا تھا اب یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔ انہوں نے اسلام کے چیلنج کو قبول کیا اور اُسی روح کے کو کے ساتھ قبول کیا جس روح کے ساتھ نبیوں کے دشمن نبیوں کے چیلنج کو قبول کرتے چلے کے آئے تھے اور دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ تلوار اور تیر کے ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے ۔ اسلام کی خیر خواہی کا جواب ویسے ہی بلند اخلاق کے ذریعہ سے نہیں بلکہ گالی گلوچ اور بد کلامی سے دینے کا اُنہوں نے فیصلہ کر لیا۔ ایک دفعہ پھر دنیا میں کفر اور اسلام کی لڑائی شروع ہو گئی ۔ ایک دفعہ پھر شیطان کے لشکروں نے فرشتوں پر ہلہ بول دیا۔ بھلا ان مٹھی بھر آدمیوں کی طاقت ہی کیا تھی کہ مکہ والوں کے سامنے ٹھہر سکیں ۔ عورتیں بے شرمانہ طریقوں سے قتل کی گئیں ۔ مردوں کی ٹانگیں چیر چیر کر ان کو مار ڈالا گیا ، غلاموں کو تپتی ہوئی ریت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹا گیا۔ اس حد تک کہ اُن کے چمڑے انسانی چمڑوں کی شکلیں بدل کر حیوانی چمڑے بن گئے ۔ دیر بعد اسلام کی فتح کے زمانہ میں جب اسلام کا جھنڈا مشرق و مغرب میں لہرا رہا تھا ایک دفعہ ایک ابتدائی نو مسلم غلام خباب کی پیٹھنگی ہوئی تو اُن کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اُن کی پیٹھ کا چمڑا انسانوں جیسا نہیں جانوروں جیسا ہے وہ گھبرا گئے اور اُس سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے؟ وہ ہنسے اور کہا بیماری نہیں یہ یادگار ہے اُس وقت کی جب ہم نو مسلم غلاموں کو عرب کے لوگ مکہ کی گلیوں میں سخت اور کھردرے پتھروں پر سے گھسیٹا کرتے تھے اور متواتر یہ ظلم ہم پر روا رکھے جاتے تھے اسی کے نتیجہ میں میری پیٹھ کا چمڑہ یہ شکل اختیار کر گیا ہے 13 ۔ مومن غلاموں پر کفار مکہ کا ظلم و ستم یہ غلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسل پر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے۔ ان میں حبشی بھی تھے جیسے بلال ، یونانی بھی تھے جیسے صہیب ۔ پھر اُن میں عیسائی بھی تھے جیسے جبیر اور صہیب اور مشرکین بھی تھے جیسے بلال اور عمار ۔ بلال کو اُس کے مالک پپتی