سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 31

سيرة النبي علي صلى الله 16 جلد 7 آپ کے چچا کے بیٹے کو جن کی عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی پہنچی تو دونوں آپ پر فوراً ایمان لے آئے ۔ صلى الله حضرت ابو بکر کا آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ابو بکر آپ کے بچپن کے دوست جو شہر سے باہر گئے ہوئے تھے جب شہر میں داخل ہوئے تو معاً اُن کے کانوں میں یہ آوازیں پڑنی شروع ہوئیں تمہارا دوست پاگل ہو گیا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان سے فرشتے اتر کر مجھ سے باتیں باتیں کرتے ہیں ۔ ابو ابو بکر سیدھے آپ کے دروازہ پر آئے اور دستک دی ۔ جب آپ نے دروازہ کھولا تو اُنہوں نے آپ سے حقیقت حال کے متعلق سوال کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن کے دوست کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے کچھ تشریح کرنی چاہی ۔ ابوبکر نے روکا اور کہا کہ مجھے صرف اتنا جواب دیجئے کہ کیا آپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا کے فرشتے آپ کے پاس آئے اور اُنہوں نے آپ سے باتیں کیں؟ آپ نے پھر تشریح کرنی چاہی مگر ابوبکر نے قسم دے کر کہا کہ صرف ا کر میرے اس سوال کا جواب دیجئے اور کچھ نہ کہئے ۔ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو ابو بکر نے کہا گواہ رہے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر کہا یا رَسُولَ اللہ ! آپ تو دلائل دے کر میرے ایمان کو کمزور کرنے لگے تھے۔ جس نے آپ کی زندگی کو دیکھا ہو کیا اُسے آپ کی سچائی کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟؟ مومنوں کی چھوٹی سی جماعت یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی جس سے اسلام کی بنیاد پڑی۔ ایک عورت کہ بڑھاپے کو پہنچ رہی تھی ، ایک گیارہ سالہ بچہ ایک جوان آزاد کردہ غلام بے وطن اور غیروں میں رہنے والا والا جس کی پشت پر کوئی نہ تھا، ایک نوجوان دوست اور ایک مدعی الہام ۔ یہ وہ چھوٹا سا قافلہ تھا جو دنیا میں نور پھیلانے کے لئے کفر و ضلالت کے میدان کی طرف نکلا ۔ لوگوں نے جب یہ باتیں سنیں ، اُنہوں نے قہقہے لگائے ، انہوں نے ایک