سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 30

صلى الله سيرة النبي علي 15 جلد 7 اندر پایا جاتا تھا۔ ان کی تفسیر تو قرآن شریف میں اپنے موقع پر آئے گی اس موقع پر ان آیتوں کا اس لئے ذکر کر دیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ ایک اہم واقعہ ہے اور قرآن کریم کے لئے یہ آیات ایک بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ کلام نازل ہوا تو آپ کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کی اتنی بڑی ذمہ داری ادا کر سکوں گا ؟ کوئی اور ہوتا تو کبر اور غرور سے اُس کا دماغ پھر جاتا کہ خدائے قادر نے ایک کام میرے سپرد کیا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کام کرنا جانتے تھے کام پر اترانا نہیں جانتے تھے۔ اترا ہوا تھا اور آپ اس الہام کے بعد حضرت خدیجہ کے پاس آئے ۔ آپ کا چہرہ اترا گھبراہٹ کے آثار ظاہر تھے۔ حضرت خدیجہ نے پوچھا آخر ہوا کیا ؟ آپ نے سارا واقعہ سنایا اور فرمایا میرے جیسا کمزور انسان اس بوجھ کو کس طرح اٹھا سکے گا ۔ حضرت خدیجہ نے کہا كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ 7 خدا کی قسم ! یہ کلام خدا تعالیٰ نے اس لئے آپ پر نازل نہیں کیا کہ آپ نا کام اور نامراد ہوں اور خدا آپ کا ساتھ چھوڑ دے۔ خدا تعالیٰ ایسا کب کر سکتا ہے۔ آپ تو وہ ہیں کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں اور بے کس اور بے مددگار لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ا۔ وہ اخلاق جو ملک سے مٹ چکے تھے وہ آ، ، وہ آپ کی ذات کے ذریعہ سے دوبارہ قائم ہو رہے ہیں ۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔ کیا ایسے انسان کو خدا تعالیٰ ابتلا میں ڈال سکتا ہے؟ پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی ہو چکے تھے۔ اُنہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو بے اختیار بول اٹھے آپ پر وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا 8 گویا استثناء باب 18 آیت 18 والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا۔ جب اس بات کی خبر زید آپ کے آزاد کردہ غلام کو جو اُس وقت کوئی پچیس تمیں سال کے تھے اور علیؓ ہیں