سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 29

لله صلى الله سيرة ابي عليه 14 جلد 7 غار حرا میں خدا کی عبادت کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب تمیں سال سے زیادہ ہوئی تو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت پہلے سے زیادہ جوش مارنے لگی ۔ آخر آپ شہر کے لوگوں کی شرارتوں ، بدکاریوں اور خرابیوں سے متنفر ہو کر مکہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک پتھروں سے بنی ہوئی چھوٹی سی غار میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے لگ گئے ۔ حضرت خدیجہ چند دن کی غذا آپ کے لئے تیار کر دیتیں 5۔ آپ وہ لے کر حرا میں چلے جاتے تھے اور اُن دو تین پتھروں کے اندر بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت میں رات اور دن مصروف رہتے تھے۔ پہلی قرآنی وحی جب آپ چالیس سال کے ہوئے ایک دن آپ نے اسی غار میں ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ ایک شخص آپ سے مخاطب ہو کے کہتا ہے ” پڑھئے۔ آپ نے فرمایا میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر اُس نے دوبارہ اور سہ بارہ کہا اور آخر پانچ فقرے اُس نے آپ سے کہلوائے اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ -6۔ یہ وہ قرآنی ابتدائی وحی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام دنیا کو اپنے رب کے نام پر جس نے تجھ کو بھی اور سب مخلوق کو پیدا کیا ہے پڑھ کر آسمانی پیغام سنا دے۔ وہ خدا جس نے انسان کو ایسے طور پر پیدا کیا ہے کہ اُس کے دل میں خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی محبت کا بیچ پایا جاتا ہے ۔ ہاں سب دنیا کو یہ پیغام سنا دے کہ تیرا رب جو سب سے زیادہ عزت والا ہے تیرے ساتھ ہوگا۔ وہ جس نے دنیا کو علوم سکھانے کے لئے قلم بنائی ہے اور انسان کو وہ کچھ سکھانے کے لئے آمادہ ہوا ہے جو اس سے پہلے انسان نہیں جانتا تھا۔ یہ چند الفاظ قرآن کریم کی اُن سب تعلیموں پر حاوی ہیں جو آئندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی تھیں اور دنیا کی اصلاح کا ایک اہم بیج اُن کے