سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 28
صلى الله سيرة ة النبي علي 13 جلد 7 جسے بچپن میں ڈاکو چُرا کر لے گئے تھے اور وہ بکتا بکا تا مکہ میں پہنچا تھا۔ اُس نو جوان نے اپنی زیر کی اور ہوشیاری سے اس بات کو سمجھ لیا کہ آزادی کی نسبت اس شخص کی غلامی بہت بہتر ہے۔ جب آپ نے غلاموں کو آزاد کیا جن میں زید بھی تھا تو زید نے کہا آپ پ تو مجھے آزاد کرتے ہیں پر میں آزاد نہیں ہوتا ، میں آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ وہ آپ کے ساتھ رہا اور روز بروز آپ کی محبت میں بڑھتا چلا گیا۔ چونکہ وہ ایک مالدار خاندان کا لڑکا تھا اُس کے باپ اور چچا ڈاکوؤں کے پیچھے پیچھے اپنے بچہ کو تلاش کرتے ہوئے نکلے ۔ آخر نہیں معلوم ہوا کہ اُن کا لڑکا مکہ میں ہے ۔ چنانچہ وہ مکہ میں آئے اور پتہ لیتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے بچے کو آزاد کر دیں اور جتنا روپیہ چاہیں لے لیں ۔ آپ نے فرما یا زید کو تو میں آزاد کر چکا ہوں وہ بڑی خوشی سے آپ لوگوں کے ساتھ جا سکتا ہے۔ پھر آپ نے زید کو بلوا کر اُس کے باپ اور چچا سے ملوا دیا۔ جب دونوں فریق مل چکے اور آنسوؤں سے اپنے دل کی بھڑاس نکال چکے تو زید کے باپ نے اُس سے کہا کہ اس شریف آدمی نے تم کو آزاد کر دیا ہے، تمہاری ماں تمہاری یاد میں تڑپ رہی ہے اب تم جلدی چلو اور اس کے لئے راحت اور تسکین کا موجب بنو۔ زید نے کہا ماں اور باپ کس کو پیارے نہیں ہوتے میرا دل بھی اس محبت سے خالی نہیں ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس قدر میرے دل میں داخل ہو چکی ہے کہ اس کے بعد میں آپ سے جدا نہیں ہو سکتا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے آپ لوگوں سے مل لیا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جدا ہونا میری طاقت سے باہر ہے۔ زید کے باپ اور چچا نے بہت زور دیا مگر زید نے اُن کے ساتھ جانا منظور نہ کیا۔ زید کی اس محبت کو دیکھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا زید آزاد تو پہلے ہی تھا مگر آج سے یہ میرا بیٹا ہے 4 ۔ اس نئی صورت حالات کو دیکھ کر زید کے باپ اور چچا واپس ۔ وطن چلے گئے اور زید ہمیشہ کے لئے مکہ کے ہو گئے ۔