سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 27

صلى الله سيرة النبي علي 12 جلد 7 بات کا حضرت خدیجہ کی طبیعت پر خاص اثر ہوا ۔ باوجود اس کے کہ وہ اُس وقت چالیس سال کی تھیں اور دو دفعہ بیوہ ہو چکی تھیں اُنہوں نے اپنی ایک سہیلی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا تا معلوم کرے کہ کیا آپ اُن سے شادی کرنے پر رضا مند ہوں گے؟ وہ سہیلی آپ کے پاس آئی اور اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے کہا میرے پاس کوئی مال نہیں ہے جس سے میں شادی کروں ۔ اُس سہیلی نے کہا اگر یہ مشکل دور ہو جائے اور ایک شریف امیر عورت سے آپ کی شادی ہو جائے تو پھر؟ آپ نے فرمایا وہ کون عورت ہے؟ اُس نے کہا خدیجہ ۔ آپ نے فرمایا میں اُس تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں؟ اس پر اُس سہیلی نے کہا کہ یہ میرے ذمہ رہا۔ آپ نے فرمایا مجھے منظور ہے۔ تب خدیجہ نے آپ کے چچا کی معرفت شادی کا فیصلہ پختہ کیا اور آپ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہوئی ۔ ایک غریب و یتیم نوجوان کے لئے دولت کا یہ پہلا دروازہ کھلا مگر اُس نے اس دولت کو جس طرح استعمال کیا وہ ساری دنیا کیلئے ایک سبق آموز واقعہ ہے ۔ غلاموں کی آزادی اور زید کا ذکر آپ کی شادی کے بعد جب حضرت خدیجہ نے یہ محسوس کیا کہ آپ کا حساس دل ایسی زندگی میں کوئی خاص لطف نہیں پائے گا کہ آپ کی بیوی مالدار ہو اور آپ اُس کے محتاج ہوں تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اپنا مال اور اپنے غلام آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں ۔ آپ نے کہا خدیجہ! کیا سچ مچ ؟ جب اُنہوں نے پھر دوبارہ اقرار کیا تو آپ نے فرمایا میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ میں غلاموں کو آزاد کر دوں ۔ چنانچہ آپ نے اُسی وقت حضرت خدیجہ کے غلاموں کو بلایا اور فرمایا تم سب لوگ آج سے آزاد ہو اور مال کا اکثر حصہ غرباء میں تقسیم کر دیا۔ جو غلام آپ نے آزاد کئے اُن میں ایک زید نامی غلام بھی تھا۔ وہ دوسرے غلاموں سے زیادہ زیرک اور زیادہ ہوشیار تھا کیونکہ وہ ایک شریف اور معزز خاندان کا لڑکا تھا