سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 26
ة سيرة النبي علي صلى الله 11 جلد 7 بات مانی اور اُس کی عزت قائم کی تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم ! اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی یہی کرتے۔ میں نے دیکھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دائیں اور بائیں دیکھا کہ محمد اللہ علیہ وسلم مست اونٹ کھڑے ہیں جو میری گردن مروڑ کر مجھے ہلاک کرنا چاہتے ہیں 3۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی روایت میں کوئی صداقت ہے یا نہیں ۔ آیا اُسے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان دکھایا تھا یا صرف اُس پر حق کا رعب چھا گیا اور اُس نے یہ دیکھ کر کہ سارے مکہ کا مطعون اور مقہور انسان ایک مظلوم کی حمایت کے جوش میں اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد کے مکہ کے سردار کے دروازہ پر کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اس شخص کا جو حق تم نے دینا ہے وہ ادا کر دو تو حق کے رعب نے اُس کی شرارت کی روح کو کچل دیا اور اُسے سچائی کے آگے سر جھکانا پڑا۔ صلى الله عروسه حضرت خدیجہ سے آنحضرت ﷺ کی شادی جب محمدرسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم 25 سال کے ہوئے تو آپ کی نیکی اور آپ کے تقوی کی شہرت شہر میں عام طور پر پھیل بھی تھی۔ لوگ آپ کی طرف انگلیاں اٹھاتے اور کہتے یہ سچا انسان جا رہا ہے، یہ امانت والا انسان جا رہا ہے۔ یہ خبریں مکہ کی ایک مالدار بیوہ کو بھی پہنچیں اور اُس نے آپ کے چچا ابو طالب سے خواہش کی کہ وہ اپنے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کہیں کہ اُس کا تجارتی مال جو شام کے تجارتی قافلہ کے ساتھ جا رہا ہے وہ اُس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔ ابو طالب نے آپ سے ذکر کیا اور آپ نے اس بات کو منظور کر لیا۔ اس سفر میں آپ کو بڑی کامیابی ہوئی اور امید سے زیادہ نفع کے ساتھ آپ لوٹے ۔ خدیجہ نے ۔ محسوس کیا کہ یہ نفع صرف منڈیوں کے حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ امیر قافلہ کی نیکی اور دیانت کی وجہ سے ہے۔ اُس نے اپنے غلام میسرہ سے جو آپ کے ساتھ تھا آپ کے حالات دریافت کئے اور اُس نے بھی اُس کے خیال کی تائید کی اور بتایا کہ سفر میں جس دیانتداری اور خیر خواہی سے آپ نے کام کیا ہے وہ صرف آپ ہی کا حصہ تھا۔ اس