سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 25

صلى الله سيرة النبي علي 10 گے جب تک کہ سمندر میں ایک قطرہ پانی کا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو وہ خود اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کر دیں گے ۔ 2 جلد 7 شاید اس قسم پر عمل کرنے کا موقع آپ کے سوا اور کسی کو نہیں ملا ۔ جب اور کو نہ آپ نے دعوی نبوت کیا اور سب سے زیادہ مکہ کے سردار ابو جہل نے آپ کی مخالفت میں حصہ لیا اور لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کوئی بات نہ کرے، اُن کی کوئی بات نہ مانے، ہر ممکن طریق سے اُن کو ذلیل کرے اُس وقت ایک شخص جس نے ابو جہل سے کچھ قرضہ وصول کرنا تھا مکہ میں آیا اور اُس نے ابو جہل سے اپنے قرضہ کا مطالبہ کیا۔ ابو جہل نے اُس کا قرض ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اُس نے مکہ کے بعض لوگوں سے اس امر کی شکایت کی اور بعض نو جوانوں نے شرارت سے اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتایا کہ اُن کے پاس جاؤ وہ تمہاری اس بارہ میں مدد کریں گے۔ اُن کی غرض یہ تھی کہ یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس مخالفت کے مدنظر جو مکہ والوں کی طرف سے عموماً اور ابو جہل کی طرف سے خصوصاً ہو رہی تھی اُس کی امداد کرنے سے انکار کر دیں گے اور اس طرح عربوں میں ذلیل ہو جائیں گے اور قسم توڑنے والے کہلائیں گے یا پھر آپ اس کی مدد کے لئے ابوجہل کے پاس جائیں گے اور وہ آپ کو ذلیل کر کے اپنے گھر سے نکال دے گا ۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ شخص گیا اور اُس نے ابو جہل کی شکایت کی تو آپ بلا تامل اٹھ کر اس کے ساتھ چل دیئے اور ابو جہل کے دروازہ پر جا کر دستک دی ۔ ابو جہل گھر سے باہر نکلا اور دیکھا کہ اُس کا قرض خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس کے دروازہ پر کھڑا ہے۔ آپ نے فوراً اسے توجہ دلائی کہ اس شخص کا تم نے فلاں فلاں حق دینا ہے اس کو ادا کرو اور ابو جہل نے بلا چون و چرا اُس کا حق اُسے ادا کر دیا۔ جب شہر کے دوسرے رؤسا نے ابو جہل کو ملامت کی کہ تم ہم کو تو یہ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ذلیل کرو اور اس سے کوئی تعلق نہ رکھو لیکن تم نے خود اُس کی