سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 24
سيرة ة النبي علي صلى الله 9 جلد 7 آپ کی والدہ حضرت آمنہ کو اُن کے دادا عبدالمطلب نے اپنی کفالت میں لے لیا تھا۔ عرب کے رواج کے مطابق آپ کو دودھ پلانے کے لئے طائف کے پاس رہنے والی ایک عورت کے سپرد کیا گیا۔ عرب لوگ اپنے بچوں کو دیہاتی عورتوں کے سپرد کر دیا کرتے تھے تا اُن کی زبان صاف ہو جائے اور اُن کی صحت درست ہو۔ آپ کی عمر کے چھٹے سال میں آپ کی والدہ بھی مدینہ سے آتے ہوئے جہاں وہ اپنے ننھیال کو ملنے گئی تھیں مدینہ اور مکہ کے درمیان فوت ہو گئیں اور وہیں دفن ہوئیں اور آپ کو ایک خادمہ اپنے ساتھ مکہ لائی اور دادا کے سپرد کر دیا۔ آپ آٹھویں سال میں تھے کہ آپ کے دادا جو آپ کے نگران تھے وہ بھی فوت ہو گئے اور آپ کے چا ابو طالب اپنے والد کی وصیت کے مطابق آپ کے نگران ہوئے ۔ عرب سے باہر آپ کو دو تین دفعہ جانے کا موقع ملا۔ جن میں سے ایک سفر آپ نے بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ کیا جو کہ تجارت کے لئے شام کی طرف گئے تھے۔ یہ سفر آپ کا غالباً شام کے جنوب مشرقی تجارتی شہروں تک ہی محدود تھا کیونکہ اس سفر میں بیت المقدس وغیرہ جگہوں میں سے کسی کا ذکر نہیں آتا۔ اس کے بعد آپ جوانی تک مکہ میں ہی مقیم رہے۔ مجلس حلف الفضول میں آپ کی شمولیت آپ کی طبیعت بچپن سے ہی سوچنے اور فکر کرنے کی طرف مائل تھی اور لوگوں کی لڑائیوں جھگڑوں میں آپ دخل نہیں دیا کرتے تھے بلکہ لڑائیوں اور فسادوں کے دور کرانے میں حصہ لیتے تھے چنانچہ مکہ اور اس کے گردونواح کے قبائل کی لڑائیوں سے تنگ آکر جب مکہ کے کچھ نوجوانوں نے ایک انجمن بنائی جس کی غرض یہ تھی کہ وہ مظلوموں کی مدد کیا کرے گی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شوق سے اُس مجلس میں شامل ہو گئے ۔ اس مجلس کے ممبروں نے ان الفاظ میں قسمیں کھائی تھیں کہ :۔ وو وہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور اُن کے حق اُن کو لے کر دیں