سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 23

سيرة النبي علي صلى الله 8 جلد 7 اور طریقوں سے ہلاک کر دیتے تھے۔ اصلی ماں کے سوا دوسری ماؤں کو عرب لوگ ماں نہیں سمجھتے تھے اور اُن سے شادیاں کرنے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ باپ کے مرنے کے بعد کئی لڑکے اپنی سوتیلی ماؤں سے بیاہ کر لیتے تھے ۔ کثرت ازدواج عام تھی ۔ کوئی حد بندی نکاحوں کی نہیں ہوتی تھی ۔ ایک سے زیادہ بہنوں سے بھی ایک شخص شادی کر لیتا تھا۔ لڑائی میں سخت ظلم کرتے تھے۔ جہاں بغض بہت زیادہ ہوتا تھا زخمیوں کے پیٹ چاک کر کے اُن کے کلیجے چبا جاتے تھے۔ ناک کان کاٹ دیتے تھے، آنکھیں نکال دیتے تھے ۔ غلامی کا رواج عام تھا، اردگرد کے کمزور قبائل کے آدمیوں کو پکڑ کے لے آتے تھے اور اُن کو غلام بنا لیتے تھے ۔ غلام کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے۔ ہر مالک اپنے غلام سے جو چاہتا سلوک کرتا اُس کے خلاف کوئی گرفت نہ تھی ۔ اگر وہ قتل بھی کر دیتا تو اس پر کوئی الزام نہ آتا تھا۔ اگر کسی دوسرے آدمی کے غلام کو مار دیتا تب بھی وہ موت کی سزا سے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور مالک کو کچھ معاوضہ دے کر آزادی حاصل کر لیتا تھا ۔ لونڈیوں کو اپنی شہوانی ضرورتوں کے پورا کرنے کا ذریعہ بنانا ایک قانونی حق تسلیم کیا جاتا تھا ۔ لونڈیوں کی اولادیں بھی آگے غلام ہوتی تھیں اور صاحب اولا د لونڈیاں بھی لونڈیاں ہی رہتی تھیں ۔ غرض جہاں تک علم و ترقی کا سوال ہے عرب لوگ بہت پیچھے تھے، جہاں تک بین الاقوامی رحم اور حسن سلوک کا سوال ہے عرب لوگ بہت پیچھے تھے ، جہاں تک جنس نا زک کے تعلق کا سوال ہے عرب لوگ دوسری اقوام سے بہت پیچھے تھے۔ مگر بعض شخصی اور بہادرانہ اخلاق اُن میں ضرور پائے جاتے تھے اور اس حد تک پائے جاتے تھے کہ شاید اُس زمانہ کی دوسری قوموں میں اس کی مثال نہیں پائی جاتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اس ماحول میں حمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے ۔ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد جن کا نام عبداللہ تھا فوت ہو گئے تھے اور آپ کو اور