سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 22

سيرة ة النبي علي صلى الله 7 جلد 7 کے ساتھ ہی قول کی پاسداری جتنی عربوں میں ملتی ہے اتنی اور کسی قوم میں نہیں ملتی ۔ اگر کوئی شخص کسی طاقتور آدمی یا قوم کے پاس آکر کہہ دیتا کہ میں تمہاری پناہ میں آ آگیا گیا ہوں تو اُس شخص یا اُس قوم کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ وہ اُس کو پناہ دے۔ اگر وہ قوم اُسے پناہ نہ دے تو سارے عرب میں وہ ذلیل ہو جاتی تھی ۔ شاعروں کو بہت بڑا اقتدار حاصل تھا وہ گویا قومی لیڈر سمجھے جاتے تھے۔ لیڈروں کے لئے زبان کی فصاحت اور اگر ہو سکے تو شاعر ہونا نہایت ضروری تھا ۔ مہمان نوازی انتہا درجہ تک پہنچی ہوئی تھی ۔ جنگل میں بھولا بھٹ کا مسافر اگر کسی قبیلہ میں پہنچ جاتا اور کہتا میں تمہارا مہمان آیا ہوں تو وہ بے دریغ بکرے اور دینے اور اونٹ ذبح کر دیتے تھے۔ اُن کے لئے مہمان کی شخصیت میں کوئی دلچسپی نہ تھی ، مہمان کا آجانا ہی اُن کے نزدیک قوم کی عزت اور احترام کو بڑھانے والا تھا اور قوم پر فرض ہو جاتا تھا کہ اُس کی عزت کر کے اپنی عزت کو بڑھائے ۔ عورتوں کو کوئی حقوق اُس قوم میں حاصل نہیں تھے ۔ بعض قبائل میں یہ عزت کی بات سمجھی جاتی تھی کہ باپ اپنی لڑکی مار ڈالے ۔ مؤرخین یہ بات غلط لکھتے ہیں کہ سارے عرب میں لڑکیوں کو مارنے کا رواج تھا۔ یہ رواج تو طبعی طور پر سارے ملک میں ہو نہیں سکتا کیونکہ اگر سارے ملک میں یہ رواج جاری ہو جائے تو پھر اس ملک کی نسل کس طرح باقی رہ سکتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عرب اور ہندوستان اور دوسرے ممالک میں جہاں جہاں بھی یہ رواج پایا جاتا ہے اس کی صورت یہ ہوا کرتی ہے کہ بعض خاندان اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر یا بعض خاندان اپنے آپ کو ایسی مجبوریوں میں مبتلا دیکھ کر کہ اُن کی لڑکیوں کے لئے اُن کی شان کے مطابق رشتے نہیں ملیں گے لڑکیوں کو مار دیا کرتے ہیں ۔ اس رواج کی برائی اُس کے ظلم میں ہے نہ اس امر میں کہ ساری قوم میں سے لڑکیوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔ عربوں کی بعض قوموں میں تو لڑکیاں مارنے کا طریقہ یوں رائج تھا کہ وہ لڑکی زندہ دفن کر دیتے تھے اور بعض میں اس طرح کہ وہ اُس کا گلا گھونٹ دیتے تھے اور بعض