سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 21
سيرة النبي علي صلى الله 6 جلد 7 ہے مگر یورپ اور امریکہ کے لاٹری بازوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس ایجاد کا سہرا عربوں کے سر ہے۔ جب کبھی جنگ ہوتی تھی عرب قبائل آپس میں جوا کھیلتے تھے اور جو جیتا تھا وہ جنگ کے اکثر اخراجات اٹھاتا تھا ۔ غرض دنیا کی دوسری آسائشوں اور سہولتوں سے محروم ہونے کا بدلہ عربوں نے شراب اور جوئے سے لیا تھا۔ تجارت عرب لوگ تاجر تھے اور اُن کے تجارت کے قافلے دور دور تک جاتے تھے ۔ ایسے سینیا سے بھی وہ تجارت کرتے تھے اور شام اور فلسطین سے بھی وہ تجارت کرتے تھے ، ہندوستان سے بھی ان کے تجارتی تعلقات تھے ۔ ان کے امراء ہندوستان کی بنی ہوئی تلواروں کی خاص قدر کرتے تھے ۔ کپڑا زیادہ تر یمن اور شام سے آتا تھا ۔ یہ تجارتیں عرب کے شہروں کے ہاتھ میں تھیں بقیہ عرب سوائے یمن اور بعض شمالی علاقوں کے بدوی زندگی بسر کرتے تھے۔ نہ اُن کے کوئی شہر تھے نہ اُن کی کوئی بستیاں تھیں ۔ صرف قبائل نے ملک کے علاقے تقسیم کیے ہوئے تھے۔ ان علاقوں میں وہ چکر کھاتے پھرتے تھے۔ جہاں کا پانی ختم ہو جاتا تھا وہاں سے چل پڑتے تھے اور جہاں پانی مل جاتا تھا وہاں ڈیرے ڈال دیتے تھے ۔ بھیڑ ، بکریاں، اونٹ اُن کی پونچی ہوتے تھے ۔ اُن کی صوف اور اُون سے کپڑے بناتے ۔ اُن کی کھالوں سے خیمے بناتے اور جو حصہ بچ جاتا اُسے منڈیوں میں لے جا کر بیچ ڈالتے ۔ عرب و و کے دیگر حالات و عادات و خصائل سونے چاندی سے وہ نا آشنا تو نہ تھے مگر سونا اور چاندی ان کے لئے ایک نہایت ہی کم یاب جنس تھی ۔ حتیٰ کہ اُن کے عوام اور غرباء میں زیورات کوڑیوں اور خوشبودار مصالحوں سے بنائے جاتے تھے ۔ لونگ اور خربوزوں اور کٹڑیوں وغیرہ کے بیچ اور اسی قسم کی چیزوں سے وہ ہار تیار کرتے اور اُن کی عورتیں یہ ہار پہن کر زیوروں سے مستغنی ہو جاتی تھیں ۔ فسق و فجور کثرت سے تھا۔ چوری کم چوری ام تھی مگر ڈا کا بے انتہا تھا ۔ ایک دوسرے کو لوٹ لینا وہ ایک قومی حق سمجھتے تھے مگر اس