سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 20

سيرة النبي علي صلى الله 5 جلد 7 مؤرخین کے قول کے مطابق تین سو ساٹھ بت تھے گویا قمری مہینوں کے لحاظ سے ہر دن کے لئے ایک علیحدہ بہت تھا ۔ ان بتوں کے علاوہ ارد گرد کے علاقوں کے بڑے بڑے قصبات میں اور بڑی بڑی اقوام کے مراکز میں علیحدہ بت تھے گویا عرب کا چپہ چپہ شرک میں مبتلا ہو رہا تھا۔ عرب لوگوں میں زبان کی تہذیب اور اصلاح کا خیال بہت زیادہ تھا۔ انہوں نے اپنی زبان کو زیادہ سے زیادہ علمی بنانے کی کوشش کی مگر اس کے سوا اُن کے نزدیک علم کے کوئی معنی نہ تھے۔ تاریخ ، جغرافیہ، حساب وغیرہ علوم میں سے کوئی ایک علم بھی وہ نہ جانتے تھے ۔ ہاں بوجہ صحرا کی رہائش اور اس میں سفر کرنے کے علم ہیئت کے ماہر تھے ۔ سارے عرب میں ایک مدرسہ بھی نہ تھا۔ مکہ مکرمہ میں کہا جاتا ہے کہ صرف چند گنتی کے آدمی پڑھنا لکھنا جانتے تھے ۔ اخلاقی لحاظ سے عرب ایک عجیب متضاد قوم تھی ۔ اُن میں بعض نہایت ہی خطرناک گناہ پائے جاتے تھے اور بعض ایسی نیکیاں بھی پائی جاتی تھیں کہ جو اُن کی قوم کے معیار کو بہت بلند کر دیتی تھیں ۔ شراب نوشی اور جوا بازی عرب شراب کے سخت عادی تھے اور شراب کے نشہ میں بے ہوش ہو جانا یا بکواس کرنے لگنا اُن کے نزدیک عیب نہیں بلکہ خوبی تھا۔ ایک شریف آدمی کی شرافت کی علامتوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور ہمسایوں کو خوب شراب پلائے ۔ امراء کے لئے دن کے پانچ وقتوں میں شراب کی مجلسیں لگانا ضروری تھا ۔ جوا اُن کی قومی کھیل تھی مگر اس کو انہوں نے ایک فن بنالیا تھا ۔ وہ جوا اس لئے نہیں کھیلتے تھے کہ اپنے اموال کو بڑھائیں بلکہ جوئے کو انہوں نے سخاوت اور بڑائی کا ذریعہ بنایا ہوا تھا۔ مثلاً جوا کھیلنے والوں میں یہ معاہدہ ہوتا تھا کہ جو جیتے وہ جیتے ہوئے مال سے اپنے دوستوں اور اپنی قوم کی دعوتیں کرے۔ جنگوں کے موقع پر جوئے کو لو ہی روپیہ جمع کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا تھا ۔ جنگ کے ایام میں آج کل بھی لاٹری کا رواج بڑھ رہا